رطانیہ کی ریفارم پارٹی کی رہنما لیلا کننگھم نے جیڈ نرس نامی خاتون کے ساتھ ماضی میں پیش آنے والے ہولناک جنسی استحصال کے واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف ایک نیا سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔ لیلا کننگھم نے اپنے حالیہ بیانات اور ٹویٹس میں ایک مجرمانہ سانحے کو قومیت کے بیانیے میں تبدیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے لیے ویزا پالیسی کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے اعداد و شمار اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل نے ان کے ان دعووں کی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔
لیلا کننگھم نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ کیس میں ملوث افراد کو پاکستان سے لایا گیا اور گزشتہ سال جاری کیے گئے دو لاکھ وزیٹر ویزوں کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سرحدی کنٹرول مؤثر نہیں ہوگا تو خواتین کا تحفظ ممکن نہیں، لہٰذا پاکستان سے ان مردوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے جو ریپ گینگ نیٹ ورکس میں ملوث تھے۔
Jade Nurse was raped by hundreds of men from age 14 “freshies’ flown in from Pakistan specifically to abuse her. Sexual exploitation tourism. Operating openly.
— Laila Cunningham (@policylaila) February 24, 2026
What visas? Who vetted them? How many are still here?
We granted 200k Pakistani visitor visas last year alone, more… https://t.co/5uhUqvlLgw
اعداد و شمار کا تضاد
لیلا کننگھم کے اس بیانیے کو جوابی طور پر برطانوی وزارتِ انصاف کے جون 2025 کے سرکاری جیل شماریات کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ کی جیلوں میں موجود 87,334 قیدیوں میں سے تقریباً 88 فیصد برطانوی شہری ہیں، جبکہ غیر ملکی قیدیوں کی شرح محض 12 فیصد ہے۔ ان غیر ملکی قیدیوں میں پاکستانی شہریوں کا تناسب صرف 2.9 فیصد ہے، جو لیلا کننگھم کے اس دعوے کو کمزور بناتا ہے کہ پاکستان سے آنے والے افراد عوامی تحفظ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شماریاتی حقائق ساتھ نہ دیں تو کسی مخصوص قومیت کو نشانہ بنانا محض سیاسی بیانیہ سازی رہ جاتا ہے۔
سیاسی فنڈنگ اور دوہرا معیار
تجزیہ کاروں نے لیلا کننگھم اور نائجل فاریج کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایک طرف یہ رہنما پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں، تو دوسری طرف بیرونِ ملک نجی عشائیوں میں بھارتی نژاد ارب پتی شخصیات اور مخصوص اشرافیہ کے ساتھ فنڈ ریزنگ کی محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس منظم انداز اور منتخب نوعیت کے غصے نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا یہ پالیسی عوامی تحفظ کے لیے ہے یا مخصوص عطیہ دہندگان کو خوش کرنے کے لیے ایک سیاسی منافقت؟
ٹرمپ کارڈ کی نقالی
لیلا کننگھم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو برطانیہ میں لاگو کرنے کی کوشش پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی حالات اور برطانوی سماجی ڈھانچے میں واضح فرق ہے؛ محض سیاسی تھیٹر کے ذریعے ثبوتوں کے بغیر بیانیہ بیچنا اب ممکن نہیں رہا۔ مزید برآں، یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ لیلا کننگھم کی اپنی خاندانی تاریخ بھی ہجرت سے جڑی ہے، اس کے باوجود مخصوص ملک کو بدنام کرنے کا رجحان سنجیدہ بحث کے بجائے سستی بیانیہ سازی پر مبنی ہے۔
جیڈ نرس کیس میں سینکڑوں مجرم ملوث تھے، مگر ریفارم یو کے کی جانب سے صرف پاکستانی نژاد افراد پر توجہ مرکوز کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ شواہد پر مبنی پالیسی نہیں بلکہ ایک دانستہ سیاسی ایجنڈا ہے جس کا مقصد حقائق کو مسخ کر کے مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہے۔