اسلام آباد: گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے، جہاں 2025 کے دوران ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پہلی بار 2011 کے بعد اس فہرست میں سرفہرست پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ اس سے قبل مسلسل دو سال پہلے نمبر پر رہنے والا برکینا فاسو دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں دہشتگردی سے ہلاکتوں میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ سرحدی علاقوں، خصوصاً افغانستان پاکستان بارڈر کے اطراف سرگرم شدت پسند گروہوں سے جڑا ہوا ہے، جنہوں نے افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔
عالمی سطح پر دہشتگردی کے واقعات میں مجموعی کمی کے باوجود پاکستان میں حملوں اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس نے سکیورٹی کی سابقہ بہتری کو پلٹ دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی زیادہ تر ان ممالک میں مرکوز ہے جہاں سیاسی عدم استحکام، کمزور حکمرانی اور جاری تنازعات موجود ہیں۔ دنیا بھر میں دہشتگردی سے ہونے والی 93 فیصد ہلاکتیں ایسے ہی ممالک میں ہوئیں جہاں پہلے سے تنازع جاری تھا۔
سب صحارا افریقہ بدستور دہشتگردی کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں برکینا فاسو، مالی، نائیجر اور نائجیریا جیسے ممالک شدید متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں شدت پسند گروہ سرحد پار نیٹ ورکس، غیر قانونی معیشت اور مقامی تنازعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عراق اور شام جیسے ممالک اب بھی شدت پسندی سے متاثر ہیں، جبکہ افغانستان عالمی دہشتگردی کے منظرنامے میں ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں کی داخلی صورتحال اور سرحد پار نیٹ ورکس خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔
دیکھئیے:خوشیوں کی آڑ میں موت کا کھیل: 15 سے 20 سال کے نوجوان ٹی ٹی پی کے نشانے پر