اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عرب ممالک، او آئی سی اور یورپی اراکین کی جانب سے ایک اہم مشترکہ بیان پیش کیا ہے۔ اس بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
عالمی برادری کا مشترکہ مؤقف
بحرین، ڈنمارک، فرانس، یونان، لاتویا، پاکستان، صومالیہ اور برطانیہ کے نمائندوں کی جانب سے جاری کردہ اس اعلامیے میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور قرارداد نمبر 2334 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے مخالف ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ 1967 کے بعد سے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی ساخت کو بدلنے کی تمام اسرائیلی کوششیں غیر قانونی ہیں۔
UN Security Council Press Stake – Statement on behalf of Arab, OIC and European Members of the UN Security Council
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 24, 2026
Ambassador Asim Iftikhar Ahmad speaks on rejection of annexation and forcible displacement, in line with UNSC resolutions and comprehensive plan
We,… pic.twitter.com/kfyfz2JfEW
اسرائیلی جارحیت کی مذمت
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے جیسے اقدامات جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ پالیسیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ ایک منصفانہ اور مستقل حصول امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کونسل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم سمیت تمام مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر فوری طور پر بند کرے اور اپنے تمام قانونی فرائض کی پاسداری کرے۔
تشدد کے خاتمے اور احتساب کا مطالبہ
اعلامیے میں اسرائیلی بستیوں کے باشندوں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور اسرائیلی افواج کے ہاتھوں معصوم فلسطینی بچوں کی حالیہ شہادتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عالمی نمائندوں نے ان واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کو فوری روکا جائے اور ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ کونسل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متعلقہ قراردادوں کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عملی راستے تلاش کرے گی۔
دیکھیے: ایران پر مسلط جنگ کے اثرات، عالمی ائیرلائنز کو 53 ارب ڈالر کا بڑا نقصان