پاکستان اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب پر حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سلامتی کونسل نے ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب کا حقِ دفاع
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے مشرق وسطیٰ سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے مطابق، عثمان جدون نے سعودی عرب، اس کے شہریوں اور معاشی بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔
پاکستانی مندوب نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے حقِ دفاع کی بھی توثیق کی۔
عثمان جدون نے یمن میں جامع اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی حمایت بھی کی۔
سلامتی کونسل کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی جمعرات کو جاری کردہ بیان میں سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ بیان میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیے گئے حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا۔
سلامتی کونسل کے صدر اور یونان کے نمائندے ایوینجیلوس سیکیرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 15 رکنی کونسل نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کی مذمت کی۔
کونسل نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کی گئی۔
مدینہ کے قریب میزائل تباہ
دوسری جانب، سعودی فوجی اتحاد نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔ مدینہ منورہ مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر پاکستان اور سلامتی کونسل کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمن میں امن کے قیام اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، یمن میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات کی بحالی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
دیکھیے: پاکپتن میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، ٹی ٹی پی کا اہم کارندہ گرفتار





