"> پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

پاکستان نے سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی نشاندہی کی گئی ہے
پاکستان نے سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی نشاندہی کی گئی ہے

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر عالمی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی جانب توجہ دلائی

February 5, 2026

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے اور اس پر جامع پابندیاں عائد کرنے مطالبہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی کاروائیوں اور اثر رسوخ میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے بی ایل اے کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی طرف توجہ دلائی، جن میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد حملے، انفراسٹرکچر اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا، اور شہری آبادی کے خلاف ظالمانہ کاروائیاں شامل ہیں، جن کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں میں 48 سے زائد معصوم شہری شہید ہوئے۔

سفیر عاصم افتخار نے واضح کیا کہ یہ دہشت گرد عناصر افغان سرزمین سے محفوظ پناہ اور بیرونی حمایت کے تحت کام کر رہے ہیں، جو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل اے جیسی تنظیموں کے خلاف مؤثر اور مربوط عالمی کاروائی ناگزیر ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *