اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہے تو 9 کروڑ آبادی والے ملک میں اس کے بعد کون حکومت کرے گا، اور کیا عراق جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی جہاں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹنے کے بعد طویل عدم استحکام جنم لیتا ہے۔

April 5, 2026

معاشی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جہاں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں، جو وہاں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کام کر رہے ہیں۔

April 5, 2026

آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔

April 5, 2026

گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔

April 5, 2026

حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

April 5, 2026

امریکی صدر نے کہا کہ منگل کا دن ایران کیلئے “پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے” ہوگا، جس کے دوران پاور پلانٹس اور پلوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

April 5, 2026

جنگ کا فائدہ فقط اسرائیل کو ہو گا، صیہونی عزائم کے آگے مت جھکیں، مذاکرات ناگزیر ہیں، پاکستان کا خلیجی ممالک کو انتباہ

اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہے تو 9 کروڑ آبادی والے ملک میں اس کے بعد کون حکومت کرے گا، اور کیا عراق جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی جہاں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹنے کے بعد طویل عدم استحکام جنم لیتا ہے۔
پاکستان کا خلیجی ممالک کو انتباہ

طویل علاقائی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہوگا، کیونکہ اس سے خطے کے تمام بڑے ممالک کمزور ہوں گے اور توجہ اس کی اپنی کمزوریوں سے ہٹ جائے گی۔

April 5, 2026

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بعض خلیجی سوشل میڈیا شخصیات کی جانب سے ایران کے خلاف مکمل جنگ اور تباہی کے مطالبات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ پاکستان کے مصالحتی مؤقف کو خطے کے استحکام کیلئے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے حق میں اٹھنے والی آوازیں جذباتی ضرور ہیں مگر عملی اور تزویراتی بنیادوں سے محروم ہیں، کیونکہ کسی بھی جنگ کی کامیابی کا دارومدار اس کے واضح انجام اور سیاسی حل پر ہوتا ہے، نہ کہ محض نعروں پر۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل علاقائی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہوگا، کیونکہ اس سے خطے کے تمام بڑے ممالک کمزور ہوں گے اور توجہ اس کی اپنی کمزوریوں سے ہٹ جائے گی۔ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ کے حامی بیانیے غیر محسوس انداز میں اسرائیلی مفادات کو تقویت دے سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہے تو 9 کروڑ آبادی والے ملک میں اس کے بعد کون حکومت کرے گا، اور کیا عراق جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی جہاں ریاستی ڈھانچہ ٹوٹنے کے بعد طویل عدم استحکام جنم لیتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی ایٹمی کشیدگی عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کی حامل ہوگی اور اس سے نہ صرف خطہ بلکہ دنیا بھر کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے، جبکہ بڑی طاقتوں کی شمولیت سے یہ تنازع عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی حملے کا آپشن بھی حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ خطے کے ممالک اس پیمانے کی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، جبکہ ایسی صورت میں بیرونی افواج کی طویل موجودگی مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو خلیجی ممالک خود براہ راست نشانہ بن سکتے ہیں، جہاں بندرگاہیں، توانائی تنصیبات اور شہری مراکز مسلسل خطرے میں رہیں گے، جس سے سرمایہ کاری اور معاشی استحکام متاثر ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے، اس لیے ایک باعزت اور متوازن سیاسی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے سفارتی حلقوں نے کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی کسی فریق کی حمایت نہیں بلکہ خطے کو وسیع جنگ سے بچانے، اقتصادی راستوں کے تحفظ اور پائیدار استحکام کے قیام کی سنجیدہ کوشش ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل انتخاب فتح یا شکست نہیں بلکہ کنٹرولڈ کشیدگی میں کمی اور بے قابو جنگ کے درمیان ہے، اور پاکستان اسی راستے کی حمایت کر رہا ہے جو پورے خطے کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔

دیکھئیے:کابل میں وسطی ایشیا اجلاس: علاقائی تعاون پر زور، امیر خان متقی نے چین میں پاکستان سے جاری مذاکرات کی تصدیق کر دی

متعلقہ مضامین

معاشی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جہاں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں، جو وہاں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کام کر رہے ہیں۔

April 5, 2026

آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔

April 5, 2026

گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔

April 5, 2026

حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

April 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *