غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

یو اے ای ڈپازٹ واپسی، مالی استحکام کا اشارہ: زرمبادلہ ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے؛ معاشی اعتماد میں اضافہ

آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔
یو اے ای قرض واپسی

معاشی حلقوں کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

April 5, 2026

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کو طویل مدتی ڈپازٹ کی واپسی کو ماہرین نے پاکستان کی بہتر ہوتی مالی صورتحال اور بڑھتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کا واضح اشارہ قرار دیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

معاشی حلقوں کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2022 میں پاکستان کو شدید بیلنس آف پیمنٹس بحران کا سامنا تھا، جب اسٹیٹ بینک کے ذخائر 7 ارب ڈالر سے بھی کم سطح تک گر گئے تھے، تاہم اس کے بعد حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اصلاحات اور بیرونی کھاتوں کے استحکام کیلئے اقدامات کیے گئے۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں بھی یہ بہتری کا رجحان برقرار ہے، اور ذخائر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالی استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کے ڈپازٹ کی واپسی کو مالی دباؤ کے بجائے پاکستان کی ادائیگی کی صلاحیت اور پالیسی اعتماد کا اظہار سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ملک اپنی بیرونی ذمہ داریاں بغیر کسی بڑے عدم استحکام کے پورا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں اور مالیاتی ساکھ بہتر ہو رہی ہے تو ایسی ادائیگیاں ایک مثبت اشارہ سمجھی جاتی ہیں، نہ کہ بحران کی علامت۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہیں، اور مالی معاملات میں پیش رفت ان تعلقات کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان اپنی معاشی اصلاحات جاری رکھتے ہوئے مالی نظم و ضبط اور بیرونی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

دیکھئیے:یو اے ای کے قرض کی واپسی کا مطلب کیا ہے؟

متعلقہ مضامین

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *