پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور طالبان حکومت کی مسلسل بے عملی خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ 29 نومبر کو ڈپٹی وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی الگ الگ پریس بریفنگز نے ایک ہی سمت کو اجاگر کیا۔ پاکستان نے ہر ممکن تحمل سے کام لیا، مگر طالبان حکومت نے نہ ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی دہشت گرد گروہوں کے خلاف کوئی عملی اقدام اٹھایا۔
حکومتی اور عسکری حکام کے مطابق پاکستان پر مسلسل افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملے کیے جا رہے ہیں، جن میں واضح شواہد کے ساتھ افغان شہریت رکھنے والے حملہ آور اور افغان پناہ گاہیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان متعدد مواقع پر بڑے اسٹریٹیجک اور کنیٹک اقدامات کے لیے تیار تھا، لیکن ’’بھائی مسلمان ملک‘‘ کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے اسلام آباد نے فوجی آپشن مؤخر کیا۔ بتایا گیا کہ پاکستان نے قطر، ترکی اور دیگر دوست ممالک کی درخواست پر بڑی کارروائیاں روکی تھیں۔
تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود طالبان حکومت کی سوچ اور طرزِ عمل میں کوئی عملی تبدیلی سامنے نہ آئی۔ قطر اور ترکی کی طویل مصالحتی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں، جس سے ثالثی کرنے والے ممالک بھی کابل کے رویے سے مایوس ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، ان کے نیٹ ورکس کو بچا رہی ہے، اور امریکی چھوڑے گئے جدید ہتھیار دہشت گرد عناصر کے استعمال میں آ رہے ہیں۔ افغان سرزمین سے دراندازی، مالی معاونت اور منظم گروہوں کی پاکستان میں کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یا تو طالبان حکومت کردار ادا نہیں کر سکتی، یا پھر کرنا نہیں چاہتی۔
حکام کے مطابق طالبان کے اندر معتدل اور سخت گیر گروہوں کی کشمکش نے فیصلہ سازی کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اپنے ملک کے اندر ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہا ہے، جب کہ افغان جانب سے دہشت گرد ڈھانچے کے خلاف کوئی قابلِ ذکر کارروائی سامنے نہیں آئی۔
اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف دہشت گردی کے خلاف ہے، نہ کہ افغان عوام کے۔ افغان عوام آج بھی پاکستان کے لیے بھائیوں کا درجہ رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے پاکستان اقوامِ متحدہ کی اپیل پر افغانستان کے لیے انسانی امداد کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے—یہ سب کابل کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے کے باوجود۔
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بند نہ کی اور پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ملک کے پاس محدود ہوتے ہوئے آپشنز میں صرف ’’فیصلہ کن کارروائی‘‘ ہی باقی رہ جائے گی۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کی ’’مکمل ذمہ داری‘‘ طالبان حکومت پر عائد ہوگی، جس کی پالیسیوں نے پورے خطے کو غیر مستحکم کیا ہوا ہے۔