رمضان المبارک کے دوران فلسطین خصوصاً غزہ کے متاثرہ عوام کے لیے ہمدردی اور امدادی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ملک بھر میں مساجد، سماجی اجتماعات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چندہ مہمات چلائی جاتی ہیں، جہاں شہری دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ساتھ قانونی اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔
سماجی حلقوں کے مطابق جذباتی ماحول میں دیا گیا چندہ اگر غیر رجسٹرڈ یا غیر شفاف تنظیموں کے ہاتھ لگ جائے تو یہ نہ صرف ضائع ہو سکتا ہے بلکہ ملکی سطح پر قانونی اور سفارتی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ عطیہ دینے سے قبل متعلقہ ادارے کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔
ماہرین کے مطابق چندہ صرف اُن اداروں کو دیا جانا چاہیے جو حکومتِ پاکستان سے رجسٹرڈ اور منظور شدہ ہوں۔ شہریوں کو چاہیے کہ سرکاری سطح پر تسلیم شدہ پلیٹ فارمز یا مستند فلاحی اداروں کے ذریعے امداد بھجوائیں تاکہ رقم حقیقی مستحقین تک محفوظ انداز میں پہنچ سکے۔
رمضان کے دوران مساجد اور عوامی مقامات پر ہونے والی چندہ مہمات کے حوالے سے بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عطیہ دینے سے قبل یہ سوال ضرور پوچھا جائے کہ آیا ادارہ باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کی مالی سرگرمیاں شفاف ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف عطیہ ہی حقیقی خدمت کے مترادف ہے۔
قانونی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نامعلوم تنظیموں یا افراد کو چندہ دینے سے نہ صرف مالی نقصان ہو سکتا ہے بلکہ یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تحقیق کے بعد ہی عطیہ دیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کی مؤثر مدد اسی وقت ممکن ہے جب امداد قانونی اور قابلِ اعتماد چینلز کے ذریعے پہنچے۔ ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جذبے کے ساتھ ساتھ احتیاط کو بھی ملحوظ خاطر رکھے تاکہ امداد واقعی ضرورت مندوں تک پہنچ سکے۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز