ڈاکٹر خرم الٰہی کی گفتگو سے پتہ چلا کہ آجکل سوشل میڈیا پرعلامہ اقبال کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چل رہی ہے ۔جب انہوں نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کیا کہ ثبوت سامنے لاؤ تو الزامات لگانے والے غائب ہو گئے ۔ تقریب تقسیم انعامات کے بعد اسلام ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کی اُساتذہ اور ڈاکٹر خرم الٰہی کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔

February 25, 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء؛ محمد نواز کی 100 وکٹیں مکمل، شاداب خان 100 وکٹیں اور 1000 رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی آل راؤنڈر بن گئے

February 25, 2026

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

February 25, 2026

ایس ای سی پی نے غیر ملکی کمپنیوں کے انخلاء کا گمراہ کن بیانیہ مسترد کر دیا؛ 1977 کے اعداد و شمار کو حالیہ دور سے منسوب کرنا غلط، گزشتہ تین سالوں میں 79 نئی کمپنیوں کی آمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ثابت کر دیا

February 25, 2026

مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو برآمد کنندگان کو ریلیف دینا ہوگا۔اسی طرح مقامی کاروبار وں کی ترقی کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،معاشی سر گرمیاں عروج پکڑنے سے ٹیکس محصولات کے اہداف پورے ہوں گے۔

February 25, 2026

پی ٹی آئی میں موروثی سیاست اور ناتجربہ کار قیادت کے غلبے سے نظریاتی کارکن مایوس؛ شخصی مفادات کے لیے ملکی استحکام کو داؤ پر لگانے کی پالیسی نے بحران پیدا کر دیا

February 25, 2026

پشتون علاقوں میں بے چینی اور پاک افغان کشیدگی: کیا ایک اور دورِ تصادم قریب ہے؟

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
پشتون علاقوں میں بے چینی اور پاک افغان کشیدگی: کیا ایک اور دورِ تصادم قریب ہے؟

آخرکار سوال یہی ہے: کیا خطہ ایک اور پراکسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے حل کر کے پائیدار امن کی راہ اختیار کریں؟

February 25, 2026

پاکستانی جنگی طیاروں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد افغانستان، خصوصاً مشرقی اور سرحدی پشتون علاقوں میں غیر یقینی اور بے چینی کی فضا گہری ہو گئی ہے۔ کابل، ننگرہار، خوست، پکتیکا اور پکتیا میں لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے: کیا مزید حملے ہوں گے؟ کیا پاکستان دوبارہ فضائی کارروائی کرے گا یا میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوگا؟

کابل میں باخبر حلقوں کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں کہ امارتِ اسلامی افغانستان اپنی حکومتی ساکھ کو کیسے محفوظ رکھے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو کس سطح تک لے جایا جائے۔ بعض حلقوں میں محدود ردعمل کی بات بھی زیرِ غور آئی، تاہم یہ خدشہ نمایاں ہے کہ اگر معاملہ بگڑ گیا اور پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی تو اس کے نتائج افغانستان کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

یہ خوف نیا نہیں۔ جب بھی پاکستان میں کوئی بڑا دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، افغانستان میں بہت سے لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا ردعمل سرحد پار آئے گا۔ کابل میں صحافیوں، تاجروں اور عام شہریوں کے درمیان یہی تشویش گردش کر رہی ہے کہ موجودہ کشیدگی کہاں جا کر رکے گی۔

غیر رسمی گفتگو میں بعض افغان تجارتی حلقے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بعض عناصر مبینہ طور پر اپنی علاقائی یا سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے ایسے گروہوں کو برداشت کرتے ہیں جن کی موجودگی پورے ملک کو سفارتی اور عسکری دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان عام افغان شہری اٹھا رہا ہے۔ سرحدی بندشوں کے باعث ادویات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور تجارت شدید متاثر ہے۔

افغان معیشت کی بڑی حد تک بندرگاہی رسائی پاکستان کے راستے سے جڑی ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایسے میں کشیدگی اور سرحدی رکاوٹیں افغان معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پراکسی حکمت عملی سے کوئی ریاست اپنے طویل المدتی اہداف حاصل کر سکتی ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں، مگر اس دوران انسانی اور معاشی نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر ہر کشیدگی کے بعد دونوں کو بالآخر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر امارتِ اسلامی افغانستان علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور واضح اقدامات کرتی ہے تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، خطرہ یہ ہے کہ شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک بار پھر افغانستان کو عالمی تناؤ کے مرکز میں لے آئے — اور ماضی کی طرح اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے۔

آخرکار سوال یہی ہے: کیا خطہ ایک اور پراکسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے حل کر کے پائیدار امن کی راہ اختیار کریں؟

دیکھیے: مودی سرکار کے منظورِ نظر اب ایمنیسٹی کے سربراہ؛ پاکستان کے خلاف منظم بین الاقوامی سازش

متعلقہ مضامین

ڈاکٹر خرم الٰہی کی گفتگو سے پتہ چلا کہ آجکل سوشل میڈیا پرعلامہ اقبال کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چل رہی ہے ۔جب انہوں نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کیا کہ ثبوت سامنے لاؤ تو الزامات لگانے والے غائب ہو گئے ۔ تقریب تقسیم انعامات کے بعد اسلام ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کی اُساتذہ اور ڈاکٹر خرم الٰہی کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔

February 25, 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء؛ محمد نواز کی 100 وکٹیں مکمل، شاداب خان 100 وکٹیں اور 1000 رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی آل راؤنڈر بن گئے

February 25, 2026

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

February 25, 2026

ایس ای سی پی نے غیر ملکی کمپنیوں کے انخلاء کا گمراہ کن بیانیہ مسترد کر دیا؛ 1977 کے اعداد و شمار کو حالیہ دور سے منسوب کرنا غلط، گزشتہ تین سالوں میں 79 نئی کمپنیوں کی آمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ثابت کر دیا

February 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *