پاکستانی جنگی طیاروں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد افغانستان، خصوصاً مشرقی اور سرحدی پشتون علاقوں میں غیر یقینی اور بے چینی کی فضا گہری ہو گئی ہے۔ کابل، ننگرہار، خوست، پکتیکا اور پکتیا میں لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے: کیا مزید حملے ہوں گے؟ کیا پاکستان دوبارہ فضائی کارروائی کرے گا یا میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوگا؟
کابل میں باخبر حلقوں کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں کہ امارتِ اسلامی افغانستان اپنی حکومتی ساکھ کو کیسے محفوظ رکھے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو کس سطح تک لے جایا جائے۔ بعض حلقوں میں محدود ردعمل کی بات بھی زیرِ غور آئی، تاہم یہ خدشہ نمایاں ہے کہ اگر معاملہ بگڑ گیا اور پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی تو اس کے نتائج افغانستان کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ خوف نیا نہیں۔ جب بھی پاکستان میں کوئی بڑا دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، افغانستان میں بہت سے لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا ردعمل سرحد پار آئے گا۔ کابل میں صحافیوں، تاجروں اور عام شہریوں کے درمیان یہی تشویش گردش کر رہی ہے کہ موجودہ کشیدگی کہاں جا کر رکے گی۔
غیر رسمی گفتگو میں بعض افغان تجارتی حلقے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بعض عناصر مبینہ طور پر اپنی علاقائی یا سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے ایسے گروہوں کو برداشت کرتے ہیں جن کی موجودگی پورے ملک کو سفارتی اور عسکری دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان عام افغان شہری اٹھا رہا ہے۔ سرحدی بندشوں کے باعث ادویات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور تجارت شدید متاثر ہے۔
افغان معیشت کی بڑی حد تک بندرگاہی رسائی پاکستان کے راستے سے جڑی ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایسے میں کشیدگی اور سرحدی رکاوٹیں افغان معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پراکسی حکمت عملی سے کوئی ریاست اپنے طویل المدتی اہداف حاصل کر سکتی ہے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں، مگر اس دوران انسانی اور معاشی نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر ہر کشیدگی کے بعد دونوں کو بالآخر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر امارتِ اسلامی افغانستان علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور واضح اقدامات کرتی ہے تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، خطرہ یہ ہے کہ شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک بار پھر افغانستان کو عالمی تناؤ کے مرکز میں لے آئے — اور ماضی کی طرح اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے۔
آخرکار سوال یہی ہے: کیا خطہ ایک اور پراکسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے حل کر کے پائیدار امن کی راہ اختیار کریں؟
دیکھیے: مودی سرکار کے منظورِ نظر اب ایمنیسٹی کے سربراہ؛ پاکستان کے خلاف منظم بین الاقوامی سازش