مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

پشتون علاقوں میں بے چینی اور پاک افغان کشیدگی: کیا ایک اور دورِ تصادم قریب ہے؟

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
پشتون علاقوں میں بے چینی اور پاک افغان کشیدگی: کیا ایک اور دورِ تصادم قریب ہے؟

آخرکار سوال یہی ہے: کیا خطہ ایک اور پراکسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے حل کر کے پائیدار امن کی راہ اختیار کریں؟

February 25, 2026

پاکستانی جنگی طیاروں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد افغانستان، خصوصاً مشرقی اور سرحدی پشتون علاقوں میں غیر یقینی اور بے چینی کی فضا گہری ہو گئی ہے۔ کابل، ننگرہار، خوست، پکتیکا اور پکتیا میں لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے: کیا مزید حملے ہوں گے؟ کیا پاکستان دوبارہ فضائی کارروائی کرے گا یا میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوگا؟

کابل میں باخبر حلقوں کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں کہ امارتِ اسلامی افغانستان اپنی حکومتی ساکھ کو کیسے محفوظ رکھے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو کس سطح تک لے جایا جائے۔ بعض حلقوں میں محدود ردعمل کی بات بھی زیرِ غور آئی، تاہم یہ خدشہ نمایاں ہے کہ اگر معاملہ بگڑ گیا اور پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی تو اس کے نتائج افغانستان کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

یہ خوف نیا نہیں۔ جب بھی پاکستان میں کوئی بڑا دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، افغانستان میں بہت سے لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا ردعمل سرحد پار آئے گا۔ کابل میں صحافیوں، تاجروں اور عام شہریوں کے درمیان یہی تشویش گردش کر رہی ہے کہ موجودہ کشیدگی کہاں جا کر رکے گی۔

غیر رسمی گفتگو میں بعض افغان تجارتی حلقے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بعض عناصر مبینہ طور پر اپنی علاقائی یا سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے ایسے گروہوں کو برداشت کرتے ہیں جن کی موجودگی پورے ملک کو سفارتی اور عسکری دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان عام افغان شہری اٹھا رہا ہے۔ سرحدی بندشوں کے باعث ادویات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور تجارت شدید متاثر ہے۔

افغان معیشت کی بڑی حد تک بندرگاہی رسائی پاکستان کے راستے سے جڑی ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایسے میں کشیدگی اور سرحدی رکاوٹیں افغان معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پراکسی حکمت عملی سے کوئی ریاست اپنے طویل المدتی اہداف حاصل کر سکتی ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہیں، مگر اس دوران انسانی اور معاشی نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر ہر کشیدگی کے بعد دونوں کو بالآخر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اگر امارتِ اسلامی افغانستان علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور واضح اقدامات کرتی ہے تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، خطرہ یہ ہے کہ شدت پسند گروہوں کی موجودگی ایک بار پھر افغانستان کو عالمی تناؤ کے مرکز میں لے آئے — اور ماضی کی طرح اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے۔

آخرکار سوال یہی ہے: کیا خطہ ایک اور پراکسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے حل کر کے پائیدار امن کی راہ اختیار کریں؟

دیکھیے: مودی سرکار کے منظورِ نظر اب ایمنیسٹی کے سربراہ؛ پاکستان کے خلاف منظم بین الاقوامی سازش

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *