پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے بچوں سمیت 35 افراد کی ہلاکت کے بعد اسکول مالک خان محمد نے حادثے کی وجہ بارشوں کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کی بنیاد ڈیڑھ سال پہلے رکھی گئی تھی اور کئی روز سے جاری بارشوں کے باعث عمارت کا ایک کمرہ گر گیا۔
خان محمد کے مطابق حادثے کے وقت متاثرہ کلاس میں تقریباً 30 بچے موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری منزل پر ایک کمرہ گرا، جس کے باعث نیچے کے کمرے بھی منہدم ہوگئے۔
اسکول مالک کا بیان
خان محمد نے بتایا کہ وہ واقعے کی صبح خود متاثرہ کلاس میں گئے تھے۔ حادثہ پیش آنے کے بعد انہوں نے اساتذہ کو بلایا اور بچوں کو ملبے سے نکالنے کا عمل شروع کیا۔
اسکول مالک کے مطابق ادارے میں مجموعی طور پر 350 طلبہ زیر تعلیم تھے۔ تاہم، حادثے کی اصل وجہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
انکوائری کمیٹی قائم
دوسری جانب سیکرٹری ایجوکیشن عنایت اللہ وسیم نے کہا ہے کہ اسکول کی عمارت مخدوش حالت میں تھی۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کو عمارت کی حالت کے بارے میں پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
سیکرٹری ایجوکیشن نے بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
اسکول حادثے کے بعد عمارتوں کی حفاظت اور تعلیمی اداروں کے معائنے کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت سے متعلق مزید حقائق واضح ہوسکیں گے۔





