مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ضمنی انتخابات میں واضح برتری حاصل کرلی ہے۔ قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق زیادہ تر نشستیں (ن) لیگ کے نام رہیں، جبکہ پیپلز پارٹی صرف ایک صوبائی نشست جیت سکی۔ پی ٹی آئی کی خالی کردہ بیشتر نشستوں پر بھی (ن) لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے، جسے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سیاسی ماحول میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 129 لاہور، این اے 185 ڈیرہ غازی خان، این اے 143 ساہیوال، این اے 104 فیصل آباد اور این اے 96 فیصل آباد میں (ن) لیگ کے امیدواروں نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کی۔ سب سے بڑا اپ سیٹ ہری پور کے حلقہ این اے 18 میں دیکھنے میں آیا، جہاں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب کو (ن) لیگ کے امیدوار بابر نواز خان کے ہاتھوں شکست ہوئی، جنہوں نے ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔
پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں بھی (ن) لیگ نے واضح برتری قائم رکھی۔ پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد، پی پی 115 فیصل آباد، پی پی 116 فیصل آباد، پی پی 203 ساہیوال اور پی پی 73 سرگودھا کے نتائج (ن) لیگ کے حق میں رہے۔ البتہ مظفرگڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی کامیاب ہوئے۔
انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامے پر جاری تجزیوں کے مطابق عوام نے اس بار پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست کو سخت رد کیا ہے۔ پنجاب میں بائیکاٹ اور خیبرپختونخوا میں ٹکٹوں کی خاندانی تقسیم نے پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ عمر ایوب کی اہلیہ کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ خود پی ٹی آئی کے “موروثی سیاست” کے بیانیے سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح کے اقدامات نے عوام میں منفی تاثر کو مزید گہرا کیا۔
ضمنی انتخابات کا ٹرن آؤٹ 10 سے 25 فیصد کے درمیان رہا، جو ایک قومی ضمنی الیکشن کی اوسط کے مطابق بتایا جا رہا ہے۔ انتخابات مجموعی طور پر پرامن رہے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، جسے پاکستان کی مثبت جمہوری پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نفرت، انتشار اور سوشل میڈیا لابیز کے بیانیوں سے آگے نکل کر اب گورننس اور کارکردگی کی سیاست چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج پی ٹی آئی کے لیے ایک مضبوط پیغام ہیں کہ بارہ سالہ کارکردگی کے بعد بھی عوام نے خیبرپختونخوا میں انہیں مسترد کر کے نئی سمت کا انتخاب کر لیا ہے۔ دوسری جانب (ن) لیگ کی کامیابی حکومتی پالیسیوں اور انتخابی حکمت عملی کی مضبوطی کا عندیہ دیتی ہے۔
دیکھیں: کشمیری انسانی حقوق کے رہنما خرم پرویز کی گرفتاری کو چار سال مکمل؛ عالمی سطح پر بھارت پر شدید تنقید