پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں ان دنوں ایک نیا ہیجان برپا ہے، جس کا مرکز عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے مبینہ سیاسی عزائم ہیں۔ معروف صحافی سید طلعت حسین اور دیگر سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کی پارٹی کنٹرول سنبھالنے کی خواہش اب واضح طور پر نمایاں ہو رہی ہے، جس نے تحریک انصاف میں جماعتی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہمدردی کا بیانیہ؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان کی صحت اور جیل کی صورتحال کو ایک ایسے بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جو بظاہر ہمدردی پر مبنی ہے لیکن درحقیقت یہ ‘تخت’ تک پہنچنے کا ایک راستہ معلوم ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کا ‘تڑپتے دل’ والا مٔوقف سیاسی مقاصد کے لیے ایک ڈھال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور سینئر قیادت کو پسِ پشت ڈال کر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے۔

جماعتی صفوں میں اختلافات
رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے اس طرزِ عمل نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا ان کے پاس سیاسی تجربہ، انتخابی جواز یا نچلی سطح پر عوامی حمایت موجود ہے؟ متعدد رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر قیادت کو صرف خاندانی وابستگی کی بنیاد پر محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو یہ تحریک انصاف کے اندر موجود جمہوری روایت کو نقصان پہنچائے گی اور پارٹی کے اندرونی دھڑے بندیوں کو مزید گہرا کر دے گی۔
سماجی میڈیا پر عوامی ردِعمل
سوشل میڈیا پر بھی صارفین پی ٹی آئی کے مستقبل اور پارٹی میں خاندانی سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صورتحال پر مبنی جذباتی اپیل ایک محدود وقت تک ہی موثر ہو سکتی ہے، لیکن ایک بڑی سیاسی جماعت کو چلانے کے لیے محض خاندانی رشتہ کافی نہیں ہوتا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر علیمہ خان نے اپنے عزائم کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی ایک ایسے نازک مرحلے پر داخلی انتشار کا شکار ہو سکتی ہے جہاں اسے پہلے ہی شدید بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔