قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات

January 13, 2026

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

January 13, 2026

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

January 13, 2026

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

January 12, 2026

سراج حقانی کا قندھار میں طاقت کا مظاہرہ، ہیبت اللہ کے لئے خطرے کی گھنٹی

حیرت انگیز طور پر ساتھ موجود ملا یعقوب اور برادر کو کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ خلاف معمول سراج حقانی نے بھی لوگوں کو اپنے جذبات کے اظہا رکا موقع دیا اور سکیورٹی والوں کے کہنے کے باوجود وہاں سے ہٹنے سے انکار کردیا ۔
سراج حقانی کا قندھار میں طاقت کا مظاہرہ، ہیبت اللہ کے لئے خطرے کی گھنٹی

بعض مبصرین کے مطابق یہ عمل دراصل ہبت اللہ کے لئے ایک واضح وارننگ ہے کہ ان کی اتھارٹی اب بلاشرکت غیرے نہیں رہی۔

December 21, 2025

حقانی گروپ کے سربراہ سراج حقانی کو طالبان سر براہ ملا ہیبت اللہ نے مخالفانہ بیانات پر وضاحت کے لئے قندھار طلب کرلیا ہے، جہاں وزیر دفاع ملا یعقوب اور ملا برادر ، گورنر تخار یوسف وفا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ملاندا محمد ندیم کو بھی بلایا گیا ہے ، لیکن اس موقع کووسراج حقانی نے قندھار میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ، قندھار کی قیادت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔ قندھار سے سورس کے مطابق وزیر داخلہ سراج حقانی ملا ہیبت اللہ کے طلب کرنے پر جمعرات کی شب قندھار پہنچے۔ خلاف توقع اور خلاف معمول ملا یعقوب اور ملا برادر کو ساتھ لے کر نماز جمعہ کے لئے قندھار میں ہیبت اللہ گروپ کا گڑھ سمجھے جانےو الے پوش علاقے ’’عین ومینا ‘‘ کی جامعہ مسجد میں چلے گئے ،میں نماز جمعہ کے بعد سکیورٹی حکام کے لئے اس ووقت شدید پریشانی پیدا ہوگئی جب وہاں موجودلوگ سراج حقانی کے ہاتھ چومنے کے لئے امڈ پڑے۔

حیرت انگیز طور پر ساتھ موجود ملا یعقوب اور برادر کو کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ خلاف معمول سراج حقانی نے بھی لوگوں کو اپنے جذبات کے اظہا رکا موقع دیا اور سکیورٹی والوں کے کہنے کے باوجود وہاں سے ہٹنے سے انکار کردیا ۔ قندھار میں کسی عوامی مقام پر سراج حقانی کی اب تک کی پہلی رونمائی تھی ۔ سورس کے مطابق حقانی گروپ کے سربراہ اور طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا قندھار کے قلب میں اپنی طاقت کا ایسا مظاہرہ طالبان کی اندرونی سیاست میں ایک واضح موڑ  اور ہیبت اللہ رجیم کے لئے خطرے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

سراج حقانی گروپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی تشہیر یہ بتاتی ہے کہ وہ یبت اللہ گروپ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کے مرکز اور ناقابلِ چیلنج قلعہ سمجھے جانےو الے قندھار میں بھی حقانی نیٹ ورک کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں۔مبصرین کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے اندر اختلافات محض پالیسی یا انتظامی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ یہ اختلافات براہ راست اقتدار، وسائل اور بقا کی جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔قندھار کی اس مسجد میں جو کچھ ہوا، وہ کوئی حادثاتی یا اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ حقانیوں کی جانب سے ایک سوچا سمجھا سیاسی اور طاقت کا مظاہرہ تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق یہ عمل دراصل ہبت اللہ کے لئے ایک واضح وارننگ ہے کہ ان کی اتھارٹی اب بلاشرکت غیرے نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق ہبت اللہ اور ان کے قریبی ساتھی حقانی گروپ کو ایک سنجیدہ خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ اسی طرح حقانی گروپ بھی ہبت اللہ اور ان کے گرد موجود سخت گیر مذہبی حلقے کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ کشمکش مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر ہیبت اللہ نے اس مظاہرے کو نظرانداز کیا تو ان کی اتھارٹی کمزور پڑنے کا خدشہ ہے، اور اگر وہ سخت ردعمل دیتے ہیں تو طالبان کے اندر کھلی تقسیم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

دیکھیں: ایران میں جیش العدل سمیت متعدد تنظیمیں تحلیل؛ متحدہ تنظیم ”جبہ مبارزین مردمی” کے قیام کا اعلان

متعلقہ مضامین

قندوز میں مبینہ فوجداری واقعے کے نام پر صحافیہ اور چار دیگر خواتین کو حراست میں لیا گیا، میڈیا کی آزادی پر نئے سوالات

January 13, 2026

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

January 13, 2026

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

January 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *