"> ایران میں جیش العدل سمیت متعدد تنظیمیں تحلیل؛ متحدہ تنظیم ''جبہ مبارزین مردمی'' کے قیام کا اعلان - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران میں جیش العدل سمیت متعدد تنظیمیں تحلیل؛ متحدہ تنظیم ”جبہ مبارزین مردمی” کے قیام کا اعلان

ذرائع کے مطابق جن تنظیموں نے باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کر کے نئی تنظیم میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے، ان میں پدا بلوچ موومنٹ، حرکت النصر بلوچستان، جیش العدل اور جبهت محمد رسول اللہ شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک نئے پلیٹ فارم کے تحت سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کرنا اور کارروائیوں کو مربوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق محمود بلوچ کا نام نئی تنظیم کے ترجمان کے طور پر سامنے آیا ہے، جنہوں نے فارسی اور انگریزی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر تنظیم کے قیام کا اعلان کیا۔

December 15, 2025

ایران سے ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کم از کم چار مسلح تنظیموں نے اپنی تحلیل کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی متحدہ تنظیم کے قیام کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نئی تنظیم کا نام “جبہ مبارزین مردمی” رکھا گیا ہے، جسے انگریزی میں “پیپلز فرنٹ” کہا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جن تنظیموں نے باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کر کے نئی تنظیم میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے، ان میں پدا بلوچ موومنٹ، حرکت النصر بلوچستان، جیش العدل اور جبهت محمد رسول اللہ شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک نئے پلیٹ فارم کے تحت سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کرنا اور کارروائیوں کو مربوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تین مزید بلوچ مسلح تنظیمیں بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے تاحال اپنی تحلیل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ ان تنظیموں میں انصار الفرقان، بلوچ نیشنل آرمی اور مزاران بلوچ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ تینوں تنظیمیں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس اتحاد کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔

نئی تنظیم کے قیام سے ایک روز قبل، 9 دسمبر کو جیش العدل کے ترجمان اجل بلوچ نے سوشل میڈیا پر جیش العدل کی تحلیل کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد 10 دسمبر کو نئی تنظیم کے قیام کا باضابطہ اعلان سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق نئی تنظیم کی قیادت کے نام تاحال ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم صرف ترجمان کا کردار سامنے رکھا جائے گا جبکہ باقی قیادت کو خفیہ رکھا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق محمود بلوچ کا نام نئی تنظیم کے ترجمان کے طور پر سامنے آیا ہے، جنہوں نے فارسی اور انگریزی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر تنظیم کے قیام کا اعلان کیا۔ اسی اعلان کے ساتھ تنظیم کا نیا پرچم اور لوگو بھی جاری کیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ نئی تنظیم ایک عسکری ڈھانچے کے تحت کام کرے گی، جس کے لیے مختلف ناموں سے بٹالینز تشکیل دی جا رہی ہیں، جو ایران کے اندر مسلح کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کریں گی۔ ابتدائی مرحلے میں اس تنظیم کی جانب سے پاکستان میں سرگرم بلوچ مسلح گروہوں اور اتحاد براس کے ساتھ اشتراک کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ بلوچ لبریشن فرنٹ کے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق تنظیم کے قیام کے اعلان کے روز، یعنی 10 دسمبر کو، نئی تنظیم نے پاکستان سرحد کے قریب ایرانی علاقے تفتان کے دیپتان کے مقام پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے امام حسین بٹالین کے گشتی دستے پر حملہ کیا، جس میں چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

تنظیم کے ترجمان محمود بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ تنظیم ایک آزاد بلوچستان کے قیام کے لیے کام کرے گی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس اتحاد میں شامل تمام گروہوں کی قیادت اس وقت افغانستان میں موجود ہے، جبکہ جیش العدل کے مراکز افغانستان کے صوبہ نیمروز کے دارالحکومت زرنج کے قریب واقع ہیں۔ دیگر تنظیموں کی موجودگی کے بارے میں بھی نیمروز، بغلان اور ہرات میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس اتحاد سے متعلق تمام اہم مشاورت اور اجلاس بھی افغانستان کے شہر زرنج میں منعقد ہوئے، جبکہ ان عناصر کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ صورتحال پر خطے کے سیکیورٹی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دیکھیں: تہران میں افغانستان سے متعلق علاقائی اجلاس: پاکستان کی شرکت، طالبان کی عدم حاضری پر علاقائی تشویش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *