ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے آج اپنی تفصیلی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بہت سے مسائل پر گفتگو کی اور صحافیوں کے سوالوں کا تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات، ایران کی صورتحال، افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی، مسئلہ کشمیر اور امریکہ کے ساتھ درپیش ویزا مسائل سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی۔
گلف ڈپلومیسی اور خلیجی روابط
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ریاستِ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے قطر کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان بھی خطے میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسی دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بحرین کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، پاکستانی کمیونٹی کے مسائل اور علاقائی و عالمی امور زیر بحث آئے۔ صدرِ پاکستان کو شیخ عیسیٰ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس دورے کو پاکستان اور بحرین کے دیرینہ تعلقات کے مزید فروغ کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
افغانستان کے مسئلے پر گفتگو
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان واحد حل طلب مسئلہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو تعلقات میں بہتری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
سرحدی بندش کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اقتصادی نقصان اپنی جگہ لیکن اگر اس سے سکیورٹی بہتر ہوئی اور جانیں بچیں تو یہ ایک اہم فائدہ ہے۔ افغانستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اس سے کوئی سروکار نہیں بشرطیکہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
مسلم دنیا اور او آئی سی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی جو صومالیہ کے علاقے سومالی لینڈ سے متعلق تھا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی، اشتعال انگیز اور صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات افریقہ کے ہارن اور بحیرہ احمر کے خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے دو ریاستی حل پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی مسلسل حمایت کو سراہا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
ایران کی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران کو ایک اہم ہمسایہ، دوست اور برادر ملک سمجھتا ہے اور اس کے امن و استحکام کو اپنی سلامتی سے جڑا ہوا تصور کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجات کی بنیادی وجہ معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔
پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔
ایران امریکہ تعلقات اور ثالثی کردار
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ماضی میں بھی مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اگر موقع ملا تو سہولت کار بننے کے لیے تیار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور یہ پالیسی بدستور برقرار ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات اور ویزا معاملہ
امریکی حکومت کی جانب سے 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کی معطلی پر دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ امریکہ کا داخلی جائزہ عمل ہے۔ پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ویزا پراسیسنگ جلد معمول پر آ جائے گی۔ ترجمان کے مطابق یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں تک محدود ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے ساتھ تجارت اور امریکا کی جانب سے ممکنہ ٹیرف کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی تجارت بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور پاکستان امریکا کے ساتھ بھی مثبت تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔
بھارت، کشمیر اور عسکری بیانات
دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کے پاکستان سے متعلق الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کا الزام محض سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ بھارت خود ریاستی دہشت گردی اور ماورائے عدالت کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسے کشمیر پر کسی قسم کا حق حاصل نہیں۔
کشمیر: آسیہ اندرابی کی سزا کی مذمت
پاکستان نے کشمیری رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور نہیدہ نسرین کی سزا کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ سزا جعلی مقدمات اور نمائشی عدالتی کارروائیوں کا نتیجہ ہے جس کا مقصد کشمیری قیادت کو خاموش کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین رہنماؤں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے اور پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
غزہ اور فلسطین
دفتر خارجہ نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ پاکستان نے ایک بار پھر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مؤقف کو دہرایا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان غزہ میں کسی بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکا کیونکہ اس فورس کا مینڈیٹ ابھی واضح نہیں۔
دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
دیکھیں: افغان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا باقاعدہ سفیر مقرر کر دیا