افغانستان میں موجود ذرائع نے ایچ ٹی این کو بتایا ہے کہ افغان حکومت مبینہ طور پر بگرام ایئربیس کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے اب تک کسی سرکاری یا آفیشل ذریعے نے باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہرین اس پیش رفت کو خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بگرام ایئربیس کی بحالی مبینہ طور پر امریکی دباؤ کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی یا انٹیلیجنس آپریشنز کے دوران اس اڈے کو اسٹریٹجک بیس کے طور پر استعمال کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں متبادل عسکری سہولیات کی تلاش واشنگٹن کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں بگرام ایئربیس کے اطراف سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ اور بعض تکنیکی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے ایئربیس کی ممکنہ بحالی کی تیاریوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بگرام ایئربیس کو دوبارہ فعال کیا جاتا ہے تو اس کے خطے کی جیو اسٹریٹجک صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے افغانستان ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بگرام ایئربیس ماضی میں امریکی اور نیٹو افواج کا سب سے بڑا عسکری اڈہ رہا ہے، جسے 2021 میں امریکہ کے انخلا کے بعد خالی کر دیا گیا تھا۔ اس ایئربیس کی ممکنہ بحالی سے متعلق خبریں خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں، تاہم حتمی صورتحال سرکاری مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش