اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد امن، سلامتی، انسانیت کے احترام اور عدل و انصاف پر قائم ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے انسان کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کو بنیادی اہمیت دی ہے اور کسی بھی صورت میں کسی بے گناہ کی جان لینے کو شدید ترین جرم قرار دیا ہے۔ موجودہ دور میں فکری، سیاسی یا اعتقادی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر یا بدعتی قرار دے کر ان کا قتل عام کرنے والے گروہ دراصل اسلام کی اصل تعلیمات سے بالکل ناواقف ہیں۔ قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کا گہرا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں کسی مسلمان کا نا حق خون بہانا کتنا بڑا گناہ اور ہلاکت خیز عمل ہے۔
شریعتِ اسلامیہ میں ایک صاحبِ ایمان انسان کی جان، مال اور عزت و آبرو کو خانہ کعبہ سے بھی زیادہ محترم ماننا واجب قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک کعبہ کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس کے علاوہ اسلام نے اپنوں یا غیروں میں خوف و ہراس پھیلانے کی سختی سے نفی کی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنے سے منع فرمایا اور واضح کیا کہ ایسا کرنے والے پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر ضرورت ننگی تلوار کی نمائش سے بھی روکا تاکہ معاشرے میں تشدد، ڈر اور اشتعال کا ماحول نہ بنے۔ جب محض ہتھیار لہرانا یا اشارہ کرنا اس قدر ناپسندیدہ ہے تو بم دھماکوں اور فائرنگ کے ذریعے مسلم آبادیوں کو خون میں نہلانا کس قدر عظیم الجرم ہوگا۔
اسلام میں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کی جان کا احترام فرض ہے۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی ایک انسان کو بغیر کسی قصاص یا زمین میں فساد پھیلانے کی سزا کے نا حق قتل کیا، اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کتنی قیمتی ہے۔ حتیٰ کہ دورانِ جنگ بھی اسلامی لشکر کو انتہائی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
احادیث سے ثابت ہے کہ اگر میدانِ جنگ میں کسی دشمن نے محض اپنی جان بچانے کے لیے بھی کلمہ پڑھ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ہاتھ اٹھانے سے سخت منع فرمایا اور صحابہ کے ایسا کرنے پر شدید ناراضگی ظاہر فرمائی۔ جب جنگ کے حالت میں دشمن کا کلمہ پڑھنا اس کی جان بچا سکتا ہے تو پھر مساجد، تعلیمی اداروں اور بازاروں میں موجود عام مسلمانوں کا قتل عام کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
اسلام میں عبادگاہوں بالخصوص مساجد کا احترام بہت لازمی ہے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کو سب سے بڑا ظالم کہا گیا ہے جو اللہ کی مساجد میں اس کا نام لیے جانے اور عبادت کرنے سے روکتے ہیں اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود کش حملوں یا دھماکوں کے ذریعے مساجد کو تاخت و تاراج کرنے والے لوگ دنیا میں بھی رسوائی اٹھائیں گے اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ ان امن دشمن عناصر کی کسی بھی طرح مدد کرتے ہیں، چاہے وہ مالی ہو، جانی ہو یا اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی شکل میں ہو، وہ بھی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق اگر کوئی شخص چند الفاظ کے ذریعے بھی کسی مومن کے قتل میں مدد کرے گا تو قیامت کے دن اس کی پیشانی پر اللہ کی رحمت سے مایوسی کا نوٹس لکھا ہوگا۔
علامہ طاہر القادری اور آئمہِ کرام نے احادیث کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کا قصداً قتل پوری دنیا کے برباد ہونے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ مفسرین کے مطابق کسی معصوم مسلمان کے قتل کو حلال اور جائز سمجھنا انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں زمین میں فساد پھیلانے اور بغاوت کرنے والوں کے لیے قتل، پھانسی، ہاتھ پاؤں کاٹنا یا ملک بدر کرنے جیسی سخت سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہمی قتل و غارت کو کفر سے تشبیہ دی اور خبردار کیا کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق میں سب سے پہلے خون کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو نا حق قتل کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے، اس کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی۔
ان تمام شرعی دلائل، قرآنی نصوص اور احادیثِ نبویہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مومن کی جان، مال اور عزت ہر حال میں محترم ہے۔ تکفیری فکر، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اپنے ناپاک مقاصد کے لیے دین کا نام استعمال کرنے والے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والے دراصل اسلام کے بنیادی احکامات کو پامال کر رہے ہیں۔ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور برداشت کو عام کرنے کے لیے ان شرعی احکام کو پھیلانا اور تکفیری سوچ کا علمی سطح پر خاتمہ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔