خیبر پختونخوا کے عوام، بالخصوص ضلع چارسدہ کے رہائشیوں نے گزشتہ تیرہ سالوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف پر جس اندھے اعتماد کا اظہار کیا، وہ ملک کی جدید سیاسی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سنہ 2018 کے انتخابات ہوں یا 2024 کے عام انتخابات، چارسدہ کے عوام نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال کر ایک طرح سے مکمل کلین سویپ کیا۔ یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندے نہ صرف اسمبلیوں تک پہنچے بلکہ صوبائی کابینہ میں اہم ترین وزارتوں اور عہدوں پر بھی فائز رہے۔ لیکن اس بے مثال اور مسلسل سیاسی حمایت کے بدلے میں علاقے کے عام لوگوں کو کیا ملا، یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج ہر شہری کی زبان پر ہے۔
جب اٹھارہ لاکھ سے زائد آبادی والے ضلع کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز، یعنی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ کی ابتر صورتحال کا جائزہ لیا جائے، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ووٹ دینے والے عوام آج بھی زندگی کی بنیادی ترین سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔
جب عوام کسی ایک سیاسی جماعت کو بار بار بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں، تو ان کی خواہشات کوئی بہت بڑی یا ناممکن نہیں ہوتیں۔ عام شہری کی توقعات صرف اتنی ہوتی ہیں کہ بیماری کی صورت میں ان کے بچوں اور بزرگوں کو ہسپتال میں ادویات، ڈاکٹر اور ٹیسٹ کی سہولت مل جائے، ان کے بچوں کے لیے اچھے اسکول ہوں، پینے کا صاف پانی میسر ہو اور علاقے کی سڑکیں بہتر حالت میں ہوں۔ لیکن چارسدہ کے مرکزی اسپتال کی موجودہ حالت زار ایک بالکل مختلف اور تکلیف دہ کہانی بیان کرتی ہے۔
اٹھارہ لاکھ کی آبادی کے لیے اتنے بڑے ہسپتال میں طویل عرصے سے ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین جیسی بنیادی اور انتہائی ضروری مشینوں کا نہ ہونا، ٹراما سینٹر کا سالہا سال سے غیر فعال رہنا، اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا باہر سے ادویات خریدنے پر مجبور ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ جب کسی ہسپتال میں ایک مریض کو ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ منتقل کرنے کے لیے تین تین لوگوں کو مل کر وہیل چیئر سنبھالنی پڑے، تو یہ ثابت کرنے کے لیے کسی پیچیدہ رپورٹ کی ضرورت نہیں رہتی کہ ہمارا صحت کا نظام کس قدر زوال پذیر ہو چکا ہے۔
پی ٹی آئی کا بنیادی سیاسی بیانیہ ہمیشہ سے تبدیلی، شفافیت، بہتر نظام اور عام آدمی کی زندگی میں سدھار لانے کے گرد گھومتا رہا ہے۔ تاہم، اگر گزشتہ کچھ سالوں کے سیاسی حالات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کی تمام تر توانائیاں، وسائل اور توجہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی محاذ آرائی پر صرف ہو رہی ہیں۔
اسلام آباد مارچ، مسلسل جلسے جلوس، احتجاجی دھرنے اور مرکز کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنا شاید پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو، لیکن اس تمام تر محاذ آرائی کی بھاری قیمت صوبے کے عام شہریوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ جب صوبائی قیادت اور پوری انتظامی مشینری کا سارا دھیان صرف سیاسی نعرے بازی اور مرکزی قیادت کے بیانیے کو آگے بڑھانے پر لگا رہے گا، تو اضلاع کے ہسپتالوں، اسکولوں اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ نہ ہونا ایک فطری بات بن جاتی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے صحت کارڈ جیسا ایک اچھا منصوبہ متعارف کرایا جس سے کئی لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا، لیکن صرف کاغذ پر انشورنس فراہم کر دینا یا کارڈ ہاتھ میں تھما دینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ جب تک سرکاری ہسپتالوں کے اندر بنیادی ڈھانچا موجود نہیں ہوگا، وہاں ڈاکٹرز اور عملہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوگا، ادویات دستیاب نہیں ہوں گی اور ضروری آلات کام نہیں کر رہے ہوں گے، تب تک صحت کارڈ کا حقیقی فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتا۔
ایمرجنسی کی صورت میں جب کسی غریب مریض کو فوری علاج اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے ہسپتال کے کاؤنٹر سے جواب مل جاتا ہے، تو اس وقت صحت کارڈ بھی اس کے کسی کام نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر اسپتال کے اندر کا نظام ہی مفلوج ہے تو پھر ایسے منصوبوں کا کیا فائدہ۔
حکومتی نمائندے اور ہسپتال انتظامیہ اکثر ان مسائل کا ملبہ فنڈز کی کمی، بیوروکریٹک رکاوٹوں یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاہدوں میں ہونے والی تاخیر پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ تیرہ سال کا طویل عرصہ کسی بھی صوبے یا ضلع کی تقدیر بدلنے کے لیے بہت کافی ہوتا ہے۔ چارسدہ سے جیتے ہوئے ارکانِ اسمبلی خود حکومت کا حصہ رہے ہیں اور صوبائی سطح پر ان کا اچھا خاصا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اس سب کے باوجود اگر ایک ٹراما سینٹر قائم کرنے یا سی ٹی اسکین کی مشین لگانے کے لیے سالہا سال تک صرف کاغذی کارروائیاں ہی چلتی رہیں اور عوام پشاور کے اسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور رہیں، تو اسے وسائل کی کمی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سیدھا سیدھا حکمرانوں کی ترجیحات کا مسئلہ ہے، جس میں عوام کے بنیادی مسائل شاید بہت نیچے آ چکے ہیں۔
جمہوریت کا اصل مقصد صرف انتخابات جیتنا اور حکومت بنانا نہیں ہوتا، بلکہ اقتدار میں آنے کے بعد عوام کی خادمی اور ان کے سامنے جواب دہ ہونا ہوتا ہے۔ اگر صبح ساڑھے اٹھ بجے ہسپتال آنے والا شہری اپنی بوڑھی ماں کا ٹیسٹ کروانے کے لیے دوپہر ڈھائی بجے تک خالی کاؤنٹرز اور غیر حاضر عملے کا انتظار کرتا رہے گا، تو اس کا اپنے منتخب نمائندوں پر سے اعتماد اٹھنا بالکل فطری ہے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ صرف سیاسی تقریروں، دھرنوں اور جلسوں کے نعروں سے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر حکمران جماعت کو صوبے کے عوام کا وہی اعتماد اور محبت برقرار رکھنی ہے جو پچھلے تیرہ سالوں سے ملی ہے، تو اسے سیاسی محاذ آرائی کی فضا سے باہر نکل کر دوبارہ ان بنیادی مسائل کی طرف لوٹنا ہوگا جن کی بہتری کا وعدہ کر کے اس نے عوام سے ووٹ لیے تھے۔