پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے جعلی ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے اداروں کو بدنام کرنے کی ایک منظم مہم سامنے آئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق آن لائن نظر آنے والے ہزاروں افراد کے دھرنے اور قیادت کی تصاویر حقیقت نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کا نتیجہ ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی متعدد تحریکی ویڈیوز کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں اے آئی اور ڈیپ فیک ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
ان ویڈیوز میں دھرنوں کے اندر ہزاروں افراد کی موجودگی دکھانے کے لیے ڈیجیٹل پیٹرنز اور جعلی ہجوم کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس پراپیگنڈے کا بنیادی مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور سیاسی سنسنی پھیلانا ہے۔
سہیل آفریدی کی جعلی تصاویر
تحقیقات کے دوران پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی اور دیگر قیادت کی کئی ایسی تصاویر اور کلپس سامنے آئے ہیں جو مکمل طور پر اے آئی ساختہ ہیں۔
تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ چہروں کی ساخت، روشنی کے زاویے اور پس منظر ڈیجیٹل طور پر تیار کیے گئے ہیں تاکہ کارکنان میں مصنوعی جوش پیدا کیا جا سکے۔
فیکٹ چیک میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ ماضی کے جلسوں، پرانے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے کلپس کو نئے فلٹرز کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔
ان پرانی ویڈیوز کو موجودہ حالات سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر یہ غلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں شدید احتجاج اور دھرنے جاری ہیں۔
مرکزی کنٹینرز کے پاس افراد
آن لائن دعوؤں اور اے آئی ویڈیوز کے برعکس زمینی صورتحال مکمل طور پر مختلف نظر آتی ہے۔ اسی طرح مرکزی کنٹینرز پر احتجاجی مظاہرین کا نام و نشان نہیں۔
حساس مقامات اور ریڈ زون کے قریب لگائے گئے مرکزی کنٹینرز کے پاس محض چند گنے چنے لوگ ہی موجود ہیں، جبکہ آس پاس کی سڑکیں مکمل طور پر ویران ہیں۔
عوامی شرکت
سوشل میڈیا پر مسلسل اپیلوں اور اے آئی مواد کے ذریعے بڑا تاثر قائم کرنے کے باوجود عام شہریوں اور کارکنان نے اس مہم سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
مرکزی دھرنوں اور احتجاجی سائٹس پر عوام کی عدم موجودگی سے آن لائن پروپیگنڈے اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
فتحقیقاتی تجزیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر دھرنوں میں دکھایا جانے والا عوامی سیلاب اور سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں کی سرگرمیاں محض اے آئی کا شاہکار ہیں۔
حقیقت میں زمینی سطح پر تمام مرکزی پوائنٹس اور کنٹینرز کے پاس گنے چنے افراد کے سوا کچھ نہیں اور صورتحال پرامن ہے۔