حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تمام تر ادوار پی ٹی آئی کے ہٹ دھرم رویے کے باعث نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملکی مسائل اور بحرانوں کے حل پر بانی سے ملاقات کی شرط کو ترجیح دی۔
اس ذاتی نوعیت کے مطالبے کو ہر ملاقات میں سب سے اہم نقطہ بنا کر پیش کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی اس ضد نے مذاکراتی ماحول کو بار بار خراب کیا۔
قیدی کا ایجنڈا
مذاکرات کے آخری دور میں بھی پی ٹی آئی وفد کا سارا زور صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر رہا۔ فریقین کے درمیان بنیادی مسائل پر پیش رفت اس ذاتی مطالبے کی نذر ہو گئی۔
اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث بات چیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کا مقصد سیاسی استحکام نہیں بلکہ محض اپنے بانی کی رہائی کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔
اچکزئی کے کردار کا سیاسی استعمال
پی ٹی آئی نے تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کے لیے سامنے رکھا۔ مگر فیصلے کے تمام اختیارات جیل کے اشاروں سے مشروط رکھے گئے۔
محمود اچکزئی تمام سیاسی قوتوں اور اداروں سے بات چیت کی وکالت کرتے رہے، جبکہ پی ٹی آئی قیادت صرف اپنے بانی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں لگی رہی۔ اس دوغلے رویے نے مذاکراتی عمل کو غیر مؤثر بنایا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی نے حسبِ معمول تمام تر ملبہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ تاہم حقائق واضح کرتے ہیں کہ سیاسی تعطل کی اصل وجہ پی ٹی آئی کی ذاتی اور غیر جمہوری ترجیحات تھیں۔
سیاسی حلقوں کے مطابق جب تک پی ٹی آئی قومی مفاد کو اپنے قائد کے ذاتی مفاد پر ترجیح نہیں دے گی، ملک میں حقیقی سیاسی بات چیت ممکن نہیں ہو سکتی۔