پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں جہاں اخلاقی اقدار اور سیاسی بیانیہ ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں، وہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے اپنائے جانے والے ‘دوہرے معیار’ نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں محترمہ نورین اور صدف کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر اگرچہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر طبقہ رنجیدہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس واقعے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ ایک گہرے تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔
سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی عزت اور وقار کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس کا تحفظ کسی سیاسی انتخاب یا پارٹی وابستگی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ نورین اور صدف کے ساتھ ہونے والے معاملے پر ہمدردی کا اظہار کرنا ہر شہری کا اخلاقی فرض ہے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی معیار تمام خواتین کے لیے یکساں ہے؟
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہاں ہمدردی کا حقدار صرف اسے سمجھا جاتا ہے جو ان کے سیاسی نظریے سے ہم آہنگ ہو۔تجزیہ کاروں نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ اگر بعینہٖ یہی واقعہ پی ٹی آئی کے کسی سیاسی مخالف یا ان کے ناقدین کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو سوشل میڈیا پر موجود وہی آوازیں جو آج ہمدردی کا تقاضا کر رہی ہیں، جشن مناتی ہوئی نظر آتیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ نورین خان اور پارٹی کارکن صدف کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس موقف کے ساتھ کہ خواتین کی عزت اور وقار کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک مسلمہ اخلاقی قدر ہے۔ تاہم، اس صورتحال نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا… pic.twitter.com/JUNDbs5ZGx
— HTN Urdu (@htnurdu) February 25, 2026
یہ رویہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے عزت کے پیمانے سیاسی وفاداری کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مخالفین کی خواتین کی تذلیل، ان کی نجی زندگیوں پر حملے اور ان کی کردار کشی کو پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل سیلز میں اکثر ‘سیاسی فتح’ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک معاشرتی رجحان ہے۔
یہ دوہرا معیار نہ صرف سیاسی فضا کو زہریلا بنا رہا ہے بلکہ انسانیت کی ان مشترکہ اقدار کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے جو ایک پرامن معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ محترمہ نورین اور صدف کے معاملے پر ہمدردی کا اظہار کرنے والی قیادت اور کارکنوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اخلاقیات کا کوئی ‘انتخابی متبادل’ نہیں ہوتا۔ جب تک سیاسی جماعتیں انسانی حقوق اور خواتین کے احترام کو اپنی مخصوص سیاسی عینک سے دیکھنا بند نہیں کریں گی، تب تک معاشرے میں حقیقی رواداری اور انصاف کا تصور ادھورا رہے گا۔
دیکھیے: سہیل آفریدی کے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی