وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان براہِ راست گٹھ جوڑ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا۔
اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو عسکری ونگ بنا رکھا ہے جبکہ کالعدم تنظیم نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنایا ہوا ہے۔ ان کے مطابق دونوں کے درمیان قریبی روابط کے شواہد موجود ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ حالیہ ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ اس شخص کی تصاویر پی ٹی آئی کے متعدد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ بھی موجود ہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی انتہا پسند تنظیموں کی مالی معاونت اور سہولت کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے جلسوں اور دھرنوں میں خارجی عناصر کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت عوامی نمائندہ ہونے کے بجائے خارجیوں کا ایجنڈا چلا رہی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اور جنید اکبر صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر فوری اپنی پوزیشن واضح کریں۔
اختیار ولی نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا بیانیے سے معاملات حل نہیں ہوں گے اور صوبے میں امن بحال کرنے کے لیے متعلقہ سیاسی قیادت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔