افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع ارغنداب میں مسلح مخالفین کی جانب سے طالبان فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس تازہ ترین حملے کے نتیجے میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ضلع ارغنداب کے علاقے دلاور میں پیش آیا، جہاں جنگجوؤں نے کارروائی کی۔ اس حملے میں طالبان کے مقامی کمانڈر رحیم اللہ روحانی اور طالبان پولیس کے ایک اور اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
اس اہم اور حساس کارروائی کی ذمہ داری افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قبول کرنے کا باقاعدہ دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ ان کے جنگجوؤں کی منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جس سے طالبان انتظامیہ کو بڑا معاشی و عسکری جھٹکا لگا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص جنوبی صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے حملوں نے خطے میں طالبان کی سیکیورٹی گرپ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
قندھار میں رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد سے مقامی پولیس اور طالبان سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ جگہ جگہ ناکے قائم کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔





