قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم فل کی طالبہ ملیحہ بنت خورشید احمد کو کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی جانب سے اغوا کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مغوی طالبہ ممکنہ خودکش بمبار نرگس بلوچ کی بھانجی بتائی جاتی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ملیحہ کو گوادر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں کسی ممکنہ خودکش حملے میں استعمال کرنے کی مذموم نیت سے اغوا کیا ہے۔
تعلیمی ادارے کی ایک ہونہار طالبہ کو اس طرح کی خطرناک اور گھناؤنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نے بی ایل اے کے بزدلانہ ایجنڈے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کالعدم بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند تنظیمیں کس طرح منظم طریقے سے پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ پہلے نوجوانوں کی شدید ذہن سازی کرتے ہیں اور پھر انہیں اپنے مذموم اور غیر ملکی مفادات کے لیے پاکستان اور ریاست کے خلاف بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیم گاہوں کو اس طرح کی تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مکروہ نیٹ ورک کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔