ایران میں تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والے مظاہرے ختم ہو گئے ہیں اور ملک کے اکثر حصوں میں امن و امان کی صورت حال بحال ہو رہی ہے۔ ایرانی حکام نے بین الاقوامی فون کالز کی سہولت بحال کر دی ہے، تاہم اندرون ملک انٹرنیٹ کی بندش تاحال جاری ہے۔
امریکی ہتھیار کی برآمدگی
ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں سے امریکی ساختہ دھماکا خیز مواد اور ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں۔
جرمنی پر تنقید
عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی انسانی حقوق کے معاملے پر اخلاقیات کی درس دینے کے لیے ایران موزوں مقام نہیں ہے بلکہ غزہ میں روا ظلم و ستم پر بولا جائے۔
امریکا کی جانب سے ایران میں مظاہروں کی کھلم کھلا پشت پناہی اور احتجاج کرنے کی ترغیب کے بعد، ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ مظاہرین کو اگر پھانسی دی گئی تو اس پر سخت ردعمل ہوگا
دیکھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ