امارتِ اسلامی افغانستان کے امیرالمومنین (سپریم لیڈر) ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تبدیل کیے جانے سے متعلق خبروں کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دینے لگی ہے۔ طالبان کے 2021 میں کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد قیادت کے اندرونی ڈھانچے اور پالیسی اختلافات اب کھل کر سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
طالبان ذرائع کے مطابق، کابل پر کنٹرول کے بعد جب امارتِ اسلامی کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو طالبان شوریٰ میں قندھاری گروپ نے ملا حسن اخوند کا نام پیش کیا۔ تاہم کابل گروپ، بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے سربراہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے اس نام پر اعتراض کیا، جس کے بعد ملا حسن اخوند نے علالت کا عذر پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر بننے سے معذرت کر لی۔ یوں باہمی اتفاقِ رائے سے ملا ہیبت اللہ کو امیرالمومنین تسلیم کر لیا گیا، جو تاحال قندھار سے امارتِ اسلامی کی قیادت کر رہے ہیں۔
طالبان کے اندر دو بڑے گروہ
اس وقت طالبان میں دو بڑے اور بااثر گروہ موجود ہیں۔
ایک گروہ قندھاری ہے، جس کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں، جبکہ دوسرا کابل گروپ ہے، جسے حقانی نیٹ ورک یعنی خلیفہ سراج الدین حقانی لیڈ کر رہے ہیں۔ جنگی اور عسکری اعتبار سے حقانی گروپ کو زیادہ منظم اور مضبوط تصور کیا جاتا ہے، جبکہ قندھاری گروپ سیاسی اور نظریاتی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
اگرچہ ملا حسن اخوند سپریم لیڈر نہ بن سکے، تاہم سینیارٹی اور سابقہ حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ملک کا عبوری وزیراعظم مقرر کیا گیا، کیونکہ وہ ملا عمر مجاہد کے دور میں بھی اسی منصب پر فائز رہ چکے تھے۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی کو اور وزارتِ دفاع ملا عمر مجاہد کے صاحبزادے ملا یعقوب کو سونپی گئی۔
ملا برادر کا کردار اور نظرانداز ہونا
طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کی قیادت کرنے والی اہم شخصیت ملا عبدالغنی برادر کو قیادت کے مرکزی فیصلوں میں نمایاں کردار نہ مل سکا۔ اگرچہ وہ وزیراعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے، تاہم اندرونی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت انہیں نائب وزیراعظم (اقتصادی امور) تک محدود کر دیا گیا، جبکہ ان کے پاس اس شعبے کا براہِ راست تجربہ بھی نہیں۔ طالبان حکومت میں اس وقت دو نائب وزرائے اعظم موجود ہیں، جس سے اقتدار کی تقسیم مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پالیسی اختلافات اور انٹرنیٹ بحران
سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کی پالیسیوں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم اور جدید ذرائع ابلاغ کے معاملے پر طالبان قیادت کے اندر واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ستمبر 2025 میں امیرالمومنین کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جس پر 29 ستمبر کو ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔اس فیصلے پر نہ صرف کابل بلکہ عالمی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا، جس کے بعد طالبان حکومت پر دباؤ بڑھا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر ملا عبدالغنی برادر نے شوریٰ کا اجلاس بلایا، جس میں متفقہ طور پر سپریم لیڈر کو قائل کرنے اور انٹرنیٹ بحالی کی سفارش کی گئی۔ تاہم قندھار میں ملا ہیبت اللہ نے اس مطالبے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
بعد ازاں شوریٰ نے عبوری وزیراعظم ملا حسن اخوند کو انٹرنیٹ بحال کرنے کی اجازت دے دی، جس کے نتیجے میں اکتوبر کے آغاز میں سروس بحال کر دی گئی۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس اقدام کو تکنیکی وجہ قرار دیا، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق یہ شوریٰ کا اجتماعی فیصلہ تھا۔ اس حکم عدولی پر سپریم لیڈر کی ناراضی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
قیادت کی تبدیلی پر غور
ان حالات کے بعد طالبان کی سنجیدہ قیادت میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ اگر امارتِ اسلامی کو عالمی برادری کے ساتھ چلنا ہے تو سپریم لیڈر میں تبدیلی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق متبادل قیادت کے لیے ملا حسن اخوند، ملا عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور خلیفہ سراج الدین حقانی کے نام زیرِ غور ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کا سب سے بڑا چیلنج داخلی اتحاد اور عالمی قبولیت ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف عالمی دباؤ بڑھایا بلکہ طالبان کے اندر بھی اختلافات کو ہوا دی۔ اگر قیادت میں تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ طالبان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ ہوگا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر افغانستان کو سفارتی تنہائی سے نکالنا اور نظامِ حکومت کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ عمل طالبان کی اندرونی طاقت کی سیاست اور گروہی توازن کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا