وینزویلا کے وزیرِ داخلہ دیوسدادو کابیلو نے کہا ہے کہ وینزویلا اس وقت بیرونی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی اور عسکری قیادت پر مکمل اعتماد رکھیں اور کسی بھی حملہ آور یا تخریبی قوت کے ساتھ تعاون سے گریز کریں۔
دیوسدادو کابیلو کے مطابق شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کی گئی، جس سے بے گناہ شہری متاثر ہوئے۔ انہوں نے اس صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انسانی حقوق اور خودمختاری کے دعوے کرنے والے حلقے اس جارحیت پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے زور دے کر کہا کہ امریکی جارحیت کے باوجود وینزویلا پُرسکون اور مضبوط ہے، اور ریاستی ادارے صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے عوام نے ماضی میں بھی مشکلات کا مقابلہ کیا ہے اور اس بار بھی اتحاد، حوصلے اور قومی یکجہتی کے ذریعے بالآخر کامیابی حاصل کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کے تمام عزائم ناکام بنائے جائیں گے اور وینزویلا اپنی خودمختاری، امن اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وینزویلا کے رہنما نیکولس مادورو کو امریکا میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے، اور یہ حملے اُن افراد کے تحفظ اور دفاع کے لیے کیے گئے تھے جو گرفتاری کے وارنٹ پر عملدرآمد کر رہے تھے۔
لی کے مطابق روبیو کو توقع ہے کہ اب جب مادورو امریکی تحویل میں ہیں تو وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک