اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

January 28, 2026

اس نئی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک میں مہارتیں اور معیار کے مطابق ملازمتیں پیدا ہوں گی، بلکہ مقامی پیداوار کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ عالمی کمپنیاں پاکستان کو صرف مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد پیداواری مرکز کے طور پر چن رہی ہیں۔

January 27, 2026

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔

January 27, 2026

ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔

January 27, 2026

زلمے خلیل زاد کے مطابق علاقائی اور عالمی سطح پر یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کو تنہائی میں رکھنے کے بجائے عملی سفارتی روابط قائم کرنا ضروری ہے۔

January 27, 2026

پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

January 27, 2026

انسانی ہمدردی یا سیاسی مفاد؟ افغانوں کی ری سیٹلمنٹ میں پاکستان اور جرمنی کا کردار

پاکستان نے دہائیوں تک ان کے لیے دروازے کھلے رکھے، لیکن عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے وعدے نبھائے
جرمنی افغان مہاجرین

جرمنی افغان مہاجرین کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے ہے، جبکہ برلن دوہری پالیسی پر چل رہا ہے۔

August 23, 2025

ہندوکش کی فضاؤں سے وابستہ افغان عوام کی ہجرت اورمختلف ممالک میں پناہ گزینی کی کہانی آج ایک نئے موڑ پر ہے۔ پاکستان سے 211 افغان باشندوں کی ملک بدری پر جرمنی نے تشویش کا اظہار کیا ہے مگر اسی جرمنی نے 2025 کے انتخابات کے بعد اپنا “انسانی ہمدردی پروگرام” معطل کر کے ہزاروں افغانوں کو پاکستان اور افغانستان میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

وعدے اور انحراف

جرمنی کی سابقہ حکومت نے نیٹو اور امریکی آپریشنز سے وابستہ 2000 افغانوں کی دوبارہ آبادکاری کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن نئی قیادت نے نہ صرف اس وعدے کو نظرانداز کیا بلکہ انسانی ہمدردی پروگرام کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا۔ اس اقدام کو ناقدین ایک “غیراعلانیہ پابندی” قرار دے رہے ہیں۔

دوہرا معیار اور حقیقت

پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ جرمنی اور یورپ کے کئی ممالک خود افغانوں کو معمولی امیگریشن خلاف ورزیوں پر واپس افغانستان بھیج چکے ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرات کے باوجود لاکھوں افغانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ یہ طرزِ عمل اس تضاد کو واضح کرتا ہے جسے پاکستان نے کئی بار عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے: مغرب بیانات اور وعدے تو کرتا ہے، مگر عملی اقدامات اکثر ان کے برعکس ہوتے ہیں۔

پاکستان کا بوجھ اور عالمی ذمہ داریاں

گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ صرف حالیہ برسوں میں تین بار ملک بدری کی ڈیڈ لائنز عالمی برادری کی درخواست پر بڑھائی گئیں۔ لیکن بین الاقوامی تعاون، خاص طور پر مغربی دنیا سے، الفاظ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ پاکستان سیکیورٹی خدشات اور معاشی دباؤ کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جبکہ مغرب بوجھ بانٹنے کے بجائے دباؤ ڈالنے میں مصروف ہے۔

انسانی ہمدردی کے دعوؤں کا امتحان

یہ معاملہ محض پناہ گزینوں کا نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات اور ذمہ داریوں کا امتحان ہے۔ اگر یورپ اور بالخصوص جرمنی واقعی انسانی ہمدردی کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ پاکستان کے اقدامات پر تنقید تب ہی بامعنی ہو سکتی ہے جب مغرب خود اپنے بیانات اور پالیسیوں میں یکسانیت اور شفافیت لائے۔

افغان مہاجرین ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پناہ گزین صرف اعداد و شمار اور سیاست کا سامان نہیں نہیں بلکہ اپنے وطن کے دور بس رہے انسان ہیں، جن کے خواب، خاندان اور مستقبل ہیں۔ پاکستان نے دہائیوں تک ان کے لیے دروازے کھلے رکھے، لیکن عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے وعدے نبھائے۔ ورنہ عالمی نظام، جس کی بنیاد انصاف اور یکجہتی پر ہونی چاہیے، محض بیانات کا پلندہ بن کر رہ جائے گا۔

دیکھیں: جرمنی کا افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے دوہرا معیار بے نقاب ہوگیا

متعلقہ مضامین

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔

January 28, 2026

اس نئی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک میں مہارتیں اور معیار کے مطابق ملازمتیں پیدا ہوں گی، بلکہ مقامی پیداوار کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ عالمی کمپنیاں پاکستان کو صرف مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد پیداواری مرکز کے طور پر چن رہی ہیں۔

January 27, 2026

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔

January 27, 2026

ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔

January 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *