سوڈان کے جنوب مشرقی شہر سنجا میں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ڈرون حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے۔ ایک فوجی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملہ سوڈانی فوج کے ایک اہم فوجی اڈے پر کیا گیا، جس میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی نشانہ بنے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈانی مسلح افواج نے اعلان کیا تھا کہ وہ تین سال بعد دوبارہ دارالحکومت خرطوم واپس جا رہی ہیں، جہاں سے جنگ کے آغاز پر حکومت کو بندرگاہی شہر پورٹ سوڈان منتقل ہونا پڑا تھا۔ سنجا، صوبہ سنار کا دارالحکومت ہے اور خرطوم جانے والے اہم زمینی راستے پر واقع ہے، جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق ڈرون حملے میں حکومتی فورسز کے اعلیٰ رہنماؤں، ان کی سیکیورٹی ٹیموں اور ان کے ہمراہ موجود شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ زخمیوں کی درست تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، تاہم الجزیرہ کے مطابق کم از کم 13 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فوجی اور طبی ذرائع کے حوالے سے 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
صوبہ وائٹ نائل کے گورنر قمرالدین فضل المولیٰ بھی حملے کے وقت سنجا میں موجود تھے، جو محفوظ رہے، تاہم ان کے دو ساتھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ سنجا میں سوڈانی فوج کی 17ویں انفنٹری ڈویژن کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، جسے حملے کا اصل ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔
آر ایس ایف کے مشیر البشہ طبیق نے سوشل میڈیا پر عندیہ دیا کہ یہ ڈرون حملہ سوڈانی فوجی قیادت کے لیے ایک انتباہ تھا۔ تاہم صوبہ سنار کی حکومت کے ترجمان صلاح آدم عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ فوج کے فضائی دفاعی نظام نے حملے کو پسپا کر دیا، اگرچہ گولہ باری کے نتیجے میں شہریوں کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔
سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں کردوفان اور دارفور کے علاقوں میں آر ایس ایف کے خلاف فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران بھاری نقصان پہنچایا ہے، جبکہ حکومت نے مئی میں خرطوم کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے بعد مرحلہ وار دارالحکومت واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
دیکھیں: سوڈان میں فوج اور ریپڈ سکیورٹی فورسز کے جھڑپوں میں لاکھوں بے گھر، 40 ہزار افراد ہلاک