روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں سکیورٹی کے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سرحد پر غیر قانونی دراندازی کی بار بار کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کے نتیجے میں بعض مقامات پر مسلح جھڑپیں بھی رونما ہوئی ہیں۔
روس کا سیکیورٹی پلان
سرگئی شوئیگو کے مطابق دہشت گردی کا تدارک اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کاروائی سی ایس ٹی او کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کو محفوظ بنانے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے تنظیم کا ایک خصوصی پروگرام اس وقت بھرپور طریقے سے جاری ہے۔
Secretary of Russia’s Security Council Sergei Shoigu says the situation along the Afghanistan–Tajikistan border remains tense, with repeated attempts at illegal crossings that have occasionally led to armed clashes.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) February 12, 2026
Speaking to Russia’s Interfax news agency, Shoigu said that… pic.twitter.com/xW8ix2sswM
روس کا وسطی ایشیا سیکیورٹی پر اجلاس کا اعلان
روسی عہدیدار نے مزید بتایا کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، بالخصوص افغانستان اور وسطی ایشیا کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے رواں سال کے آخر میں ایک اہم مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں سی ایس ٹی او، سی آئی ایس اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے نمائندے شرکت کریں گے تاکہ مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور تاجکستان کی سرحدات پر دہشت گردانہ حملوں اور غیر قانونی دراندازی کے واقعات میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان پرتشدد کاروائیوں کے نتیجے میں متعدد سکیورٹی اہلکار اور عام شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ روس ان بڑھتے ہوئے خطرات کو خطے کے مجموعی امن کے لیے سنگین چیلنج قرار دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماسکو کی جانب سے ان سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر دفاعی حصار مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: تخار میں طالبان پر حملہ، کمانڈر سمیت 3 پشتون اہلکار ہلاک