افغانستان کے معاملے پر پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح رہا ہے کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی کسی بھی قسم کی عسکری موجودگی، مداخلت یا یکطرفہ پالیسیاں کبھی پائیدار امن کا باعث نہیں بن سکتیں۔ تاریخ کا دھارا اس بات کا شاہد ہے کہ جب بھی غیر علاقائی قوتوں نے اپنے جیو پولیٹیکل اور سیاسی مفادات کے لیے اس خطے کو استعمال کیا، اس کا خمیازہ نہ صرف افغان عوام کو بھگتنا پڑا بلکہ بالخصوص پاکستان اور خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کو بھی شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔
آج جب روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری الیگزینڈر وینیڈکٹوف نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی بحالی خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے، تو یہ دراصل پاکستان کے اسی موقف کی توثیق ہے جسے اسلام آباد دہائیوں سے عالمی برادری کے سامنے پیش کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دو دہائیوں پر محیط ناکام جنگی تجربات کے بعد اب اس خطے کو بیرونی عسکری تسلط، چھاؤنیوں اور پراکسی جنگوں سے پاک ہونا چاہیے، تاکہ خطہ قدرتی معاشی ترقی کی طرف گامزن ہو سکے۔
روسی عہدیدار کے اس بیان اور ماسکو کی جانب سے کابل کے ساتھ سکیورٹی، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اقدامات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ خطے کے اہم دارالحکومت اب ایک ہی نقطہ نظر پر متفق ہو رہے ہیں۔
ماسکو کا کابل کے ساتھ دوطرفہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت روابط کو مضبوط بنانا اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل اور یوریشیا کا پائیدار امن بیرونی عسکری مداخلتوں میں نہیں، بلکہ علاقائی ممالک کی باہمی مشاورت، اقتصادی شراکت داری اور “خطے کا حل خطے کے ذریعے” کی پالیسی میں مضمر ہے۔
عالمی برادری اور بالخصوص مغربی طاقتوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ افغانستان میں عسکری موجودگی کو کسی دوسرے نام سے دوبارہ مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے لیے ایک نیا بحران پیدا کرے گی۔ پاکستان کی سیاسی و سفارتی بصیرت کی صحت اب روس جیسے بڑے علاقائی کھلاڑی کے تحفظات سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔
خطے کا پائیدار مستقبل بیرونی اڈوں یا عسکری اثر و رسوخ میں نہیں بلکہ کابل کے ساتھ مثبت معاشی تعاون، تجارتی راہداریوں کی فعال سازی اور مشترکہ سکیورٹی فریم ورک میں ہی پنہاں ہے، جس پر اب خطے کے بیدار ممالک کو متحد ہو کر عمل پیرا ہونا ہوگا۔





