"> افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی واپسی خطے کے لیے خطرہ ہے: روس - HTN Urdu
مددگار یا مکار؟ لائبہ اعجاز

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب، خاندان کی قربانیاں اور مبینہ فراڈ کے الزامات؛ لائبہ اعجاز کا معاملہ تعلیمی مشاورتی خدمات کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی واپسی خطے کے لیے خطرہ ہے: روس

روس نے افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی واپسی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کابل کے ساتھ سکیورٹی اور معاشی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا ہے۔
افغانستان روس

روس نے افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل کے ساتھ تجارت اور سکیورٹی میں تعاون تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

October 13, 2026

افغانستان کے معاملے پر پاکستان کا تاریخی اور اصولی مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح رہا ہے کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی کسی بھی قسم کی عسکری موجودگی، مداخلت یا یکطرفہ پالیسیاں کبھی پائیدار امن کا باعث نہیں بن سکتیں۔ تاریخ کا دھارا اس بات کا شاہد ہے کہ جب بھی غیر علاقائی قوتوں نے اپنے جیو پولیٹیکل اور سیاسی مفادات کے لیے اس خطے کو استعمال کیا، اس کا خمیازہ نہ صرف افغان عوام کو بھگتنا پڑا بلکہ بالخصوص پاکستان اور خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کو بھی شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔

آج جب روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری الیگزینڈر وینیڈکٹوف نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی ڈھانچے کی بحالی خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے، تو یہ دراصل پاکستان کے اسی موقف کی توثیق ہے جسے اسلام آباد دہائیوں سے عالمی برادری کے سامنے پیش کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دو دہائیوں پر محیط ناکام جنگی تجربات کے بعد اب اس خطے کو بیرونی عسکری تسلط، چھاؤنیوں اور پراکسی جنگوں سے پاک ہونا چاہیے، تاکہ خطہ قدرتی معاشی ترقی کی طرف گامزن ہو سکے۔

روسی عہدیدار کے اس بیان اور ماسکو کی جانب سے کابل کے ساتھ سکیورٹی، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اقدامات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ خطے کے اہم دارالحکومت اب ایک ہی نقطہ نظر پر متفق ہو رہے ہیں۔

ماسکو کا کابل کے ساتھ دوطرفہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت روابط کو مضبوط بنانا اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل اور یوریشیا کا پائیدار امن بیرونی عسکری مداخلتوں میں نہیں، بلکہ علاقائی ممالک کی باہمی مشاورت، اقتصادی شراکت داری اور “خطے کا حل خطے کے ذریعے” کی پالیسی میں مضمر ہے۔

عالمی برادری اور بالخصوص مغربی طاقتوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ افغانستان میں عسکری موجودگی کو کسی دوسرے نام سے دوبارہ مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے لیے ایک نیا بحران پیدا کرے گی۔ پاکستان کی سیاسی و سفارتی بصیرت کی صحت اب روس جیسے بڑے علاقائی کھلاڑی کے تحفظات سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔

خطے کا پائیدار مستقبل بیرونی اڈوں یا عسکری اثر و رسوخ میں نہیں بلکہ کابل کے ساتھ مثبت معاشی تعاون، تجارتی راہداریوں کی فعال سازی اور مشترکہ سکیورٹی فریم ورک میں ہی پنہاں ہے، جس پر اب خطے کے بیدار ممالک کو متحد ہو کر عمل پیرا ہونا ہوگا۔

دیکھیے: پاکستان سے جنگ بیرونی منصوبے کا حصہ ہے، افغان وزیر

متعلقہ مضامین

روسی وزیر داخلہ ولادی میر کولوکولٹسف کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں پاکستان روس سکیورٹی تعاون اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 14, 2026

قندھار کے ضلع ارغنداب میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے حملے میں طالبان کمانڈر رحیم اللہ روحانی سمیت دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

October 14, 2026

خیبر پختونخوا پولیس کے 54 شہدا کے خاندانوں میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے گئے، جبکہ شہدا پیکج میں اضافے اور پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

October 14, 2026

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا ایمرجنسی کی قرارداد پیش ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔

October 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *