تجزیہ کار سفینہ خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین یا کسی بھی قانونی دستاویز میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت فوج یا پولیس میں ملازمت اختیار کرنے والا ہر فرد لازماً شہید ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کے پاس اس حوالے سے آئین یا قانون کی کوئی واضح شق موجود ہے تو وہ اسے عوام کے سامنے پیش کریں۔
صفینہ خان کا کہنا تھا کہ شہادت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم سعادت ہے، جس کا فیصلہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ صرف کسی سرکاری ملازمت یا تنخواہ کی بنیاد پر۔ ان کے مطابق فوج، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کے اہلکار ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، تاہم کسی فرد کو شرعی اعتبار سے شہید قرار دینے کا معاملہ مذہبی اصولوں اور اہلِ علم کی تشریح سے متعلق ہے۔
لہذا سیاسی مفادات کے لیے شہدا جیسی مقدس جماعت پر تنقید کرنا کسی بھی طرح سے مناسب عمل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات شہادت کے بیانیے کو ریاستی اداروں کی کارکردگی، پالیسیوں یا سول ملٹری تعلقات پر ہونے والی تنقیدی بحث سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ ان موضوعات پر آزادانہ اور ذمہ دارانہ مکالمہ ایک جمہوری معاشرے کا حصہ ہونا چاہیے۔
صفینہ خان کے مطابق عوامی مباحث میں قانونی، آئینی اور مذہبی تصورات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے تاکہ حساس معاملات پر غیر ضروری ابہام پیدا نہ ہو اور قومی گفتگو حقائق اور اصولوں کی بنیاد پر آگے بڑھ سکے۔