آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی اور حالیہ واقعات کے تناظر میں سردار امان کی جانب سے مذاکرات اور سیاسی حل کی بات کو مخالف حلقوں نے بدلتے ہوئے مؤقف سے تعبیر کیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کا سامنا کرنے کے بجائے مذاکرات کی بات کرنا ایک نئی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
جاری بیان کے مطابق، ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے والے عناصر کو اپنے اقدامات کا جواب دینا چاہیے۔ بیان میں سردار امان اور ان کے ساتھیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بیانیے تبدیل کرنے کے بجائے قانون کا سامنا کریں اور تشدد کے واقعات سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا جواب دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان پہنچانے والے واقعات پر جواب دہی ضروری ہے، جبکہ قانون کی بالادستی اور امن و استحکام کے لیے ریاستی قوانین پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
تاہم، سیاسی مکالمے کو پُرامن حل کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ قانون کی پاسداری اور تشدد کے واقعات پر جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ آزاد کشمیر میں پائیدار امن کے لیے سیاسی اختلافات کا حل پُرامن مکالمے اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کرنا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





