یہ پاکستان ویمن ٹیم کی انٹرنیشنل فٹبال میں سب سے بڑے مارجن سے فتح ہے، اس سے قبل قومی ٹیم نے مالدیپ کو 0-7 سے شکست دی تھی۔

April 10, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے

April 10, 2026

افغان وزیرِ ہائر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم نے کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران ادب کے ایک طالب علم کو ازبک ٹوپی پہننے پر سرِعام تھپڑ مار دیا۔ عینی شاہدین نے واقعے کو نسلی تذلیل اور ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے

April 10, 2026

دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ “سفارتی بنیان المرصوص” کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان “پیس میکر” بن کر ابھرا ہے

April 10, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو انسانیت کے لیے ’کینسر‘ قرار دے کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ دفاعی ماہرین نے اسے پاکستان کی ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی اور نپا تلا پالیسی بیان قرار دیا ہے، جبکہ اے آئی پلیٹ فارمز کی جانب سے اس بیان کی سنسر شپ نے صیہونی خوف کو مزید بے نقاب کر دیا ہے

April 10, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف نسلی گروہوں، خصوصاً غیر پشتون طلبہ، پر اپنی ثقافتی شناخت ترک کرنے کا دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔

April 10, 2026

مسلکی امتیاز عروج پر؛ طالبان کا شیعہ طلبا کو زبردستی حنفی بنانے کا حکم

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف نسلی گروہوں، خصوصاً غیر پشتون طلبہ، پر اپنی ثقافتی شناخت ترک کرنے کا دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔
مسلکی امتیاز عروج پر؛ طالبان کا شیعہ طلبا کو زبردستی حنفی بنانے کا حکم

طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات “شرعی اصولوں” اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم اس پر داخلی و خارجی سطح پر بحث اور تشویش کا سلسلہ جاری ہے۔

April 10, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے جامعات میں طلبہ پر سخت مذہبی اور ثقافتی پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل پایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے احکامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلبہ سے ایک حلف نامے پر دستخط لیے جا رہے ہیں، جس میں فقہ حنفی اختیار کرنے سمیت مخصوص طرزِ زندگی اپنانے کی شرط رکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حلف نامے میں طلبہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف فقہ حنفی کی پیروی کریں بلکہ مخصوص پشتون لباس پہنیں، سر ڈھانپ کر رکھیں، داڑھی رکھیں اور بالوں کا انداز بھی طالبان کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق رکھیں۔ اس کے علاوہ موسیقی سننے، تصاویر بنانے اور کسی بھی غیر سرکاری یا سیاسی تنظیم سے وابستگی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا قبول کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف نسلی گروہوں، خصوصاً غیر پشتون طلبہ، پر اپنی ثقافتی شناخت ترک کرنے کا دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔ اندازاً 60 فیصد غیر پشتون طلبہ ان پالیسیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تعلیمی ماحول میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

حال ہی میں کابل یونیورسٹی میں ایک واقعہ بھی رپورٹ ہوا، جہاں ایک ازبک طالب علم کو روایتی ٹوپی پہننے پر مبینہ طور پر سرعام تھپڑ مارا گیا اور اس کی تضحیک کی گئی۔ اس واقعے کے بعد سوشل اور تعلیمی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح بامیان یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات میں بھی ان اقدامات کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسیاں تعلیمی اداروں میں مذہبی اور ثقافتی یکسانیت مسلط کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جو افغانستان جیسے کثیر النسلی اور کثیرالمسلکی معاشرے میں مزید تقسیم اور بے چینی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف تعلیمی آزادی کو محدود کرتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات “شرعی اصولوں” اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم اس پر داخلی و خارجی سطح پر بحث اور تشویش کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

یہ پاکستان ویمن ٹیم کی انٹرنیشنل فٹبال میں سب سے بڑے مارجن سے فتح ہے، اس سے قبل قومی ٹیم نے مالدیپ کو 0-7 سے شکست دی تھی۔

April 10, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے

April 10, 2026

افغان وزیرِ ہائر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم نے کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران ادب کے ایک طالب علم کو ازبک ٹوپی پہننے پر سرِعام تھپڑ مار دیا۔ عینی شاہدین نے واقعے کو نسلی تذلیل اور ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے

April 10, 2026

دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ “سفارتی بنیان المرصوص” کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان “پیس میکر” بن کر ابھرا ہے

April 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *