چوبیس مارچ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی حملوں کو افغانستان اور طالبان سے جوڑنے کے لیے “قابلِ اعتبار شواہد” پیش نہیں کیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف عالمی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں، جس سے بین الاقوامی بیانیے میں تضاد واضح ہو رہا ہے۔
عالمی رپورٹس اور دستاویزی شواہد
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس، سگار کی رپورٹس، روسی وزارت خارجہ کے تجزیات، سی ایس ٹی او اور شنگھائی تعاون تنظیم کے جائزے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق 13 ہزار سے 23 ہزار تک غیر ملکی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جن میں 6 ہزار سے زائد ٹی ٹی پی کے عناصر شامل ہیں جو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہوں اور آپریشنل آزادی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سرحد پار حملوں اور علاقائی سلامتی کے خدشات
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے 600 سے زائد حملوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی موجودگی، اس کی قیادت کی دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں اور داعش خراسان (ISIL-K) کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جبکہ طالبان پر سہولت کاری اور معاونت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
بیانیے میں تضاد اور اٹھتے سوالات
تجزیہ کاروں کے مطابق جب متعدد بین الاقوامی ادارے اور رپورٹس ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہوں تو اقوام متحدہ کے بعض ماہرین کی جانب سے شواہد پر سوال اٹھانا ایک “سیلیکٹو اپروچ” معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان ماہرین کی جانب سے انہی اداروں کی رپورٹس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جن کا وہ خود حصہ ہیں۔
سفارتی اور ادارہ جاتی ساکھ کا معاملہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی رپورٹس، سیکیورٹی تجزیات اور سفارتی بیانات کو بھی ناکافی قرار دیا جائے تو پھر شواہد کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ اس صورتحال نے نہ صرف بیانیے کی ساکھ بلکہ عالمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
موجودہ حالات میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا دستیاب بین الاقوامی شواہد کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اگر اس تضاد کو دور نہ کیا گیا تو خطے میں سیکیورٹی، سفارت کاری اور اعتماد سازی کے عمل پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔