وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر اہتمام ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر رسمی دستخط کر دیے۔ یہ تقریب ڈیووس میں منعقد ہوئی، جس میں 18 دیگر ممالک نے بھی غزہ پیس بورڈ کے چارٹر پر دستخط کیے
اس تاریخی تقریب میں پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، ازبکستان، اردن، بحرین، مراکش، آرمینیا، ارجنٹائن، کوسوو، پیراگوئے، منگولیا، آذربائیجان اور بلغاریہ کے نمائندوں نے بھی شمولیت کے دستخط ثبت کیے۔
ٹرمپ کا امن کے لیے وژن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا “غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کا مشکور ہوں۔ میں اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا۔ غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے۔”
ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “میں نے 10 ماہ میں 8 جنگیں رکوائیں۔ میں نے شام کے صدر سے بات کی اور شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹائیں۔ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوشاں ہیں۔”
پاک بھارت تعلقات پر ٹرمپ کا بیان
اس موقع پر امریکی صدر نے پاک بھارت کشیدگی پر اہم بات کرتے ہوئے کہا، “پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ملک ہیں۔ میں نے دونوں کے درمیان جنگ رکوائی۔ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا آپ نے ایک یا دو کروڑ لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔”
بورڈ آف پیس کے بنیادی مقاصد
اس معاہدے کے تحت غزہ بحران کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نکالا جائے گا، غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا، علاقے کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا، فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، ان کی ریاستی حیثیت اور حق خودارادیت کا تحفظ کیا جائے گا۔
پاکستان کا اسٹریٹجک کردار
پاکستان کی اس معاہدے میں شمولیت کو ایک تاریخی اور حقیقت پسندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکا، چین اور روس جیسے عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں، جس کے باعث یہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔
خارجہ پالیسی کا تسلسل
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولی رہی ہے، چاہے معاملہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے موقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔