پارٹی کے کئی رہنما اس لیک پر خاموش ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آڈیو نے نہ صرف پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی فیصلوں اور اندرونی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

January 30, 2026

علاقائی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی اس روش نے ہمسایہ ممالک کو مستقل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ افغانستان ایک مستحکم ہمسایہ بننے کے بجائے عدم تحفظ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے، جہاں سے اسلحہ، منشیات اور مسلح عناصر خطے کے دیگر ممالک میں پھیل رہے ہیں۔

January 30, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ سزا اور ٹرائل کے معاملے کو دانستہ طور پر جذباتی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عدلیہ مخالف بیانیہ تشکیل دے کر ووٹرز کو متحرک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق آزادیٔ اظہار کے نام پر ریاست اور عدلیہ کے خلاف زہر آلود بیانات پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔

January 30, 2026

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے یا عسکری کارروائی کرنے کا کوئی قانونی، سفارتی یا بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔ اس حوالے سے بارہا سرکاری سطح پر وضاحت کی جا چکی ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات کا دہرانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

January 30, 2026

اس کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا؛ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی۔ ضربِ عضب اور پاکستانی فوج کی سٹرائیکس کو سامراجی جارحیت کہا گیا، جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔

January 30, 2026

حکومتِ پاکستان نے ملکی قرضوں کو ان کی آخری ادائیگی کی تاریخ سے قبل ادا کرنے کا تاریخی اقدام شروع کیا، گزشتہ 14 ماہ میں 3,650 ارب روپے کا قرض قبل از وقت ادا کیا گیا

January 30, 2026

امید کرتے ہیں افغان حکومت دہشتگرد گروہوں کیخلاف کارروائی کرے گی؛ شہباز شریف

اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کو ختم کیا جائے۔
امید کرتے ہیں افغان حکومت دہشتگرد گروہوں کیخلاف کارروائی کرے گی؛ شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور عالمی برادری کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا

September 27, 2025

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن پورے خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان حکومت انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے، خصوصاً خواتین کے حقوق کے حوالے سے عملی پیش رفت ضروری ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے پائے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور عالمی برادری کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ دنیا میں نفرت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھارت کی ہندوتوا سوچ کو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ یہ نظریہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں عدم برداشت کو ہوا دے رہا ہے۔

اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کو ختم کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام ہی دنیا کو محفوظ اور خوشحال بنا سکتا ہے۔

دیکھیں: افغان مسائل کے حل کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے؛ پاکستان کی تجویز

متعلقہ مضامین

پارٹی کے کئی رہنما اس لیک پر خاموش ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آڈیو نے نہ صرف پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی فیصلوں اور اندرونی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

January 30, 2026

علاقائی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی اس روش نے ہمسایہ ممالک کو مستقل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ افغانستان ایک مستحکم ہمسایہ بننے کے بجائے عدم تحفظ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے، جہاں سے اسلحہ، منشیات اور مسلح عناصر خطے کے دیگر ممالک میں پھیل رہے ہیں۔

January 30, 2026

ماہرین کا کہنا ہے کہ سزا اور ٹرائل کے معاملے کو دانستہ طور پر جذباتی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عدلیہ مخالف بیانیہ تشکیل دے کر ووٹرز کو متحرک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق آزادیٔ اظہار کے نام پر ریاست اور عدلیہ کے خلاف زہر آلود بیانات پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔

January 30, 2026

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے یا عسکری کارروائی کرنے کا کوئی قانونی، سفارتی یا بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔ اس حوالے سے بارہا سرکاری سطح پر وضاحت کی جا چکی ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات کا دہرانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

January 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *