وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک اور 9 مئی جیسا واقعہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ملک کو ممکنہ تباہی اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا۔
شہباز شریف نے یہ بات پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں ڈھائی گھنٹے کی مشاورت، اتحادی جماعتوں سے گفتگو اور مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم کا مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کے سامنے ملک میں امن و امان برقرار رکھنا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا اہم چیلنج تھا۔ ان کے بقول، ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں جانیں ضائع ہو رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف سیاسی سرگرمیوں سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس کے بعد حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کو ضروری سمجھا۔ وزیراعظم کے مطابق، فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا گیا اور حکومت کے لیے پاکستان سب سے پہلے ہے۔
شہباز شریف نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ جماعت کی قیادت نے مذاکرات کے دوران سنجیدہ پیش رفت کے بجائے احتجاجی سیاست کو ترجیح دی۔ تاہم پی ٹی آئی نے ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینیٹ میں قرارداد بھی جمع کرا رکھی ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تھی، جس کی تاریخ میں متعدد بار تبدیلی کی گئی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے کابینہ اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی۔ ان کے مطابق، حکومت نے ملک کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی اس اقدام کی مخالفت کر رہی ہے اور اسے غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ یوں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کا اہم موضوع بن گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کا وعدہ
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق، حکومت کی ترجیحات میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو فعال بنانا، ادویات کی دستیابی یقینی بنانا، امن و امان بہتر کرنا اور دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کرنا شامل ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ صوبے کے معاملات میں رہنمائی کے لیے ایک ایڈوائزری کونسل بھی قائم کی گئی ہے۔ اس میں مختلف شعبوں کے ماہرین، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کرے گی اور ترقیاتی منصوبوں کو شروع کرنے اور مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات دکھائے گی۔ وزیراعظم کے مطابق، صوبے میں امن و امان کی بہتری بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔





