پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی پھوٹ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنی ہی قیادت کے سیاسی فیصلوں اور حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے غلط فیصلوں نے تحریک انصاف کو شدید سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر پارٹی سربراہ نے اپنے ناقص اور غلط فیصلوں کا بروقت ازالہ نہ کیا تو پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل مکمل طور پر تاریک ہو جائے گا۔
نااہل قیادت اور استعفے کا مطالبہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکمرانی اور تنظیمی ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کی نامزدگی ایک سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ پارٹی آج تک بھگت رہی ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت سے کوئی ریلیف یا فیس سیونگ ملنے کی امید نہیں۔ پی ٹی آئی کی رسوائی سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی فوری طور پر استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔
ناکام احتجاج اور تنظیمی کمزوریاں شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانیے کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور عوامی تحریک کے دعوے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پارٹی رہنماؤں کے پاس عوام کو سڑکوں پر لانے کی نہ تو کوئی عملی تیاری تھی اور نہ ہی کوئی حکمت عملی۔
ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی اور سینیٹرز عوام میں جانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ جب عوام نے 27 ستمبر کو کال مسترد کر دی تو اب 4 اکتوبر کو بھی پارٹی کو عوامی سطح پر مکمل ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عوامی اعتماد کا خاتمہ اور انتشار شیر افضل مروت نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے خود پارٹی کے وقار کو برباد کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے خلفشار کی وجہ سے قیادت اپنا سارا عوامی اعتماد کھو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام نے ان کے جلسوں اور احتجاجی کالز کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر قیادت نے موجودہ پالیسیاں جاری رکھیں تو پی ٹی آئی اتنی کمزور ہو جائے گی کہ ملکی سیاست میں دوبارہ سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔
مفاد پرستی کا الزام پارٹی میں قربانیاں دینے کے باوجود خود کو نظر انداز کیے جانے پر شکوہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں مفاد پرست ٹولہ حاوی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ علیمہ خان، سلمان اکرم راجا اور سہیل آفریدی پر مشتمل مخصوص حلقہ پارٹی کے فیصلوں پر قابض ہے، جس نے سیاسی مفادات کے لیے تنظیم کو انتشار اور زوال کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔