خیبر پختونخوا میں فرض شناس سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور دہشت گردوں کی سیاسی پشت پناہی کے تانے بانے ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ شہید ایس ایچ او اور پی ٹی آئی رہنما شفیع جان کے درمیان تلخ کلامی کے اگلے ہی دن ایس ایچ او کو گن مین سمیت شہید کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شہید ایس ایچ او نے قانون کی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما اور وزیر شفیع جان کو سیاسی دباؤ ڈالنے سے روکا تھا۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی تھی۔
واقعات کا یہ خوفناک تسلسل اس بات کو مکمل طور پر ثابت کرتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور سیاسی طاقت کے حامل عناصر کے درمیان کتنی گہری اور تیز رفتار رابطہ کاری موجود ہے۔ یہ حملہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طے شدہ انتقامی کارروائی تھی۔
وہ لمحات جب شہید ایس ایچ او اور شفیع جان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جسے فتنۃ الخوارج طالبان TTP برداشت نہ کر سکی اور اسے اپنے سہولتکار وزیر کی سرعام توہین سمجھا گیا اور اگلے ہی دن اس SHO کو گن مین سمیت شہید کر دیا گیا. https://t.co/nci189VLH9 pic.twitter.com/cqygPsYsmb
— عمران شاہین (@imshee67) October 9, 2026
اس افسوسناک واقعے نے ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے سامنے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اب یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ خوارج کے دہشت گردوں کو اتنی جلدی ٹارگٹ کی اطلاع اور سہولت کاری کس نے فراہم کی۔
عوامی حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پولیس افسران کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ریاست دشمن خوارج اور ان کے سیاسی سہولت کاروں کے ناپاک گٹھ جوڑ کا ہر سطح پر مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔