"> طالبان کے بڑھتے اندرونی اختلافات اور افغانستان کی حالت زار - HTN Urdu
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰ

قومی سلامتی کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے: سرفراز بگٹی کا مولانا کو واضح پیغام

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

طالبان کے بڑھتے اندرونی اختلافات اور افغانستان کی حالت زار

بغلان میں طالبان کے فرنگ ضلع کے ڈسٹرکٹ چیف شبیراحمد کو 17 نومبر کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا گیا۔ شبیراحمد پشتون ہونے کے باوجود مقامی تاجک طالبان سے تعاون رکھتے تھے اور انہیں مقامی زمین اور وسائل قندھار و ہلمند کے کمانڈروں کے حوالے کرنے پر اعتراض تھا۔
طالبان کے بڑھتے اندرونی اختلافات اور افغانستان کی حالت زار

اگر یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا رہا تو طالبان حکومت کی ساخت اندر سے بکھر سکتی ہے؛ وہ بھی ایسے وقت جب افغانستان شدید معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے۔

December 10, 2025

کابل (سیف اللہ خالد سے) افغانستان میں طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایک دوسرے پر حملوں اور گرفتاریوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے میں تین بڑے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے طالبان کی اندرونی یکجہتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نسلی اختلاف یا طاقت کی جنگ؟

بغلان میں طالبان کے فرنگ ضلع کے ڈسٹرکٹ چیف شبیراحمد کو 17 نومبر کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا گیا۔ شبیراحمد پشتون ہونے کے باوجود مقامی تاجک طالبان سے تعاون رکھتے تھے اور انہیں مقامی زمین اور وسائل قندھار و ہلمند کے کمانڈروں کے حوالے کرنے پر اعتراض تھا۔ طالبان انٹیلی جنس نے انہیں بیٹے اور کزن سمیت منتقل کر کے بغاوت اور “امیرالمؤمنین کے حکم عدولی” کا مقدمہ بنا دیا ہے۔

طالبان رہبر ملا ہیبت اللہ نے جون 2025 میں حکم جاری کیا تھا کہ جو بھی ان کے حکم کی مخالفت کرے گا، وہ “ریاست کے خلاف باغی” تصور ہوگا اور اس پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلے گا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔۔۔

فراہ میں حملہ: امدادی وسائل کی بندر بانٹ پر جنگ

فراہ میں طالبان شماریات ڈائریکٹر مسنا بلوچ پر صوبائی دفتر کے قریب حملہ کیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ طالبان ہی کے مخالف گروہ کا تھا جو بلوچ کی تعیناتی سے خوش نہیں۔


بلوچ امدادی سامان کی غیر قانونی تقسیم کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس تنازع پر رواں ماہ گورنر آفس میں میٹنگ کے دوران مسلح ہاتھا پائی تک ہوئی تھی۔

بدخشاں میں گرفتاری: سونے کی کانیں اور طاقت کی سیاست

اسی ہفتے بدخشاں میں ذاغ ڈسٹرکٹ کے پولیس کمانڈر فہیم درویش کو گرفتار کیا گیا۔ درویش تاجک تھے اور مقامی طالبان کو سونے کی کانوں کے حقوق دلوانے کی کوشش میں پشتون کمانڈروں سے ٹکرا گئے۔ ان پر بھی “بغاوت” کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

پس منظر: طالبان میں پیچیدہ نسلی سیاست

افغانستان کے شمالی و مغربی علاقوں میں مقامی تاجک، ہزارہ اور بلوچ طالبان مسلسل شکایت کرتے ہیں کہ طاقت اور وسائل پر پشتون, خاص طور پر قندھار و ہلمند کے کمانڈر قابض ہوتے جا رہے ہیں۔
سونے کی کانیں ہوں یا سرکاری زمین اور امداد, سب کچھ چند ہاتھوں میں جمع ہونے لگا ہے۔

یہی وہ اختلافات ہیں جنہوں نے طالبان نظام میں خطرناک دراڑیں ڈال دی ہیں۔

حکمت یار کا دباؤ میں نکلنا: اختلافات کا ایک اور رخ

اطلاعات کے مطابق حزبِ اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار طالبان کے دباؤ اور مسلسل محاصرے سے تنگ آ کر ملک چھوڑ چکے ہیں۔


یہ منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ جو بھی طالبان کی داخلی پالیسیوں پر سوال اٹھائے، اسے جگہ نہیں۔

افغان میڈیا اور بیانیہ: حقیقت اور پراپیگنڈے کا فرق

افغان میڈیا حالیہ ہفتوں میں یہ تاثر دے رہا ہے کہ

  • افغانستان خطے میں تجارتی طور پر خودمختار ہو رہا ہے
  • روس و ایران سے براہِ راست تجارت بڑھ رہی ہے
  • پاکستان پر انحصار کم ہو رہا ہے
  • سعودی ثالثی سے تعلقات بحالی کی راہ ہموار ہے

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات بدستور ڈیڈلاک کا شکار ہیں، نہ کوئی لائحہ عمل طے پایا ہے، نہ کسی ثالث نے ٹھوس ذمہ داری لی ہے۔ افغان حکومت داخلی بحران چھپا کر بیرونی کامیابیوں کا تاثر دے رہی ہے۔

مستقبل کی طرف بڑھتے خطرات

  • طالبان کی اندرونی تقسیم پہلے سے کہیں زیادہ کھل کر سامنے آ چکی ہے
  • طاقت کی لڑائی نسلی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے
  • مقامی قبائل کی بغاوت کے آثار اب نمایاں ہیں
  • فوجی عدالتوں اور سخت گیر پالیسیوں نے بداعتمادی بڑھا دی ہے

اگر یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا رہا تو
طالبان حکومت کی ساخت اندر سے بکھر سکتی ہے؛ وہ بھی ایسے وقت جب افغانستان شدید معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے۔

دیکھیں: مزار شریف میں نامعلوم افراد نے ترکمان بزرگ کو قتل کر دیا

متعلقہ مضامین

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

October 17, 2026

خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

October 17, 2026

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔

October 17, 2026

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *