معاصر عالمی سیاست میں جغرافیائی معاشیات کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عصرِ حاضر میں کسی بھی ریاست کی ٹیکنالوجی میں برتری اور دفاعی خود انحصاری کا دارومدار اب ان نایاب معدنیات پر ہے جو مستقبل کی صنعتی بقا کی ضامن سمجھی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے مغربی خطوں، بالخصوص بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پوشیدہ معدنی دولت عالمی قوتوں کی توجہ کا محور و مرکز ہے۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے ان ذخائر کو چین کے متبادل کے طور پر دیکھنے کی خواہش اور زمینی حقائق یعنی سرحد پار سے اسپانسر شدہ عدم استحکام کے مابین ایک واضح خلیج موجود ہے، جسے تزویراتی بلائنڈ اسپاٹ قرار دینا قرینِ انصاف ہوگا۔
پاکستان محض تانبے اور سونے کی کان نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک ناگزیر ‘انرجی حب’ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ، جو بیجنگ پر اپنی سپلائی چین کا انحصار کم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، ان ذخائر کو ایک کلیدی موقع تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی مالیاتی اداروں کی جانب سے اس شعبے میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا محض مالیاتی ترغیبات اس نوعیت کے عظیم منصوبوں کی سلامتی اور تسلسل کی ضمانت بن سکتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ معدنی ثروت انہی جغرافیائی حدود میں مقید ہے جو عرصہ دراز سے ‘پراکسی جنگوں’ کی زد میں ہیں۔ پاکستان کا یہ مؤقف کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے علیحدگی پسند گروہ اور دہشت گرد تنظیمیں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، اب ایک مسلمہ حقیقت بن چکا ہے۔ بی ایل اے جیسی کالعدم تنظیموں کی جانب سے انفراسٹرکچر اور سکیورٹی فورسز پر حملے دراصل اس مذموم ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔
امریکہ کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے کہ اگر وہ ان تزویراتی خطرات کو محض پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دے کر چشم پوشی برتتا ہے تو وہ بالواسطہ طور پر اپنے ہی طویل المدتی مفادات کی نفی کرے گا۔ مغربی سرمایہ کار کمپنیاں ‘رسک مینجمنٹ’ کے حوالے سے انتہائی محتاط ہوتی ہیں؛ اگر خطے میں شورش کا تسلسل برقرار رہا تو امریکی سرمایہ کاری کبھی بھی ان منصوبوں میں جڑیں نہیں پکڑ سکے گی جہاں چین پہلے ہی اپنی مستحکم بنیادیں استوار کر چکا ہے۔
افغانستان کا بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ اس صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہا ہے۔ کابل میں طالبان کی آمد کے بعد دہشت گرد گروہوں کو میسر آنے والی مبینہ پناہ گاہیں نہ صرف پاکستان کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ عالمی توانائی کی گزرگاہوں کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ واشنگٹن کو ادراک کرنا ہوگا کہ وسطی ایشیا سے عالمی منڈیوں تک رسائی کا خواب ایک مستحکم اور پرامن پاکستان کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
امریکی پالیسی سازوں کو ‘چین کے مقابلے’ کی محدود سوچ سے نکل کر ‘سپلائی چین کے استحکام’ کے وسیع تر تناظر میں پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی۔ ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کے لیے ضروری ہے کہ کابل پر دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مؤثر دباؤ ڈالا جائے، علاقائی طاقتوں کو مداخلت پسندی سے روکا جائے اور پاکستان کے معدنی شعبے میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ پاکستان اپنی تزویراتی اہمیت کے باعث تجارت اور تعاون کا محور بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ عالمی طاقتیں اسے پراکسی جنگوں کا میدان بنانے کے بجائے معاشی استحکام کا شراکت دار تسلیم کریں۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا میں موسلا دھار بارشیں: چھتیں گرنے سے 8 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق