پاکستان کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار ایک اہم سفارتی مشن پر آج بیجنگ پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت کو امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے حالیہ مذاکرات اور چار فریقی ملاقات کے ثمرات پر اعتماد میں لیں گے۔ یہ دورہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار اور عالمی طاقتوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک۔ چین تزویراتی مشاورت
بیجنگ روانگی سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی چار فریقی ملاقات کے جزئیات سے بیجنگ کو آگاہ کرنا اسلام آباد کی ترجیحات میں شامل ہے۔
چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بیجنگ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے ‘ثالثی کردار’ کو سراہتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ چین کی یہ تائید پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
ملاقات کا تزویراتی پس منظر
نائب وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان، عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بڑے تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں نہ صرف امریکہ-ایران تعلقات بلکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر بھی تفصیلی مشاورت متوقع ہے۔
دیکھیے: تعلیم پر پابندیاں افغانستان کے مستقبل کیلئے خطرہ ہیں، کرزئی کی طالبان پالیسیوں پر کڑی تنقید