شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں، نہ کہ شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کے خلاف۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کالعدم نیٹ ورکس شہری آبادی میں گھل مل کر کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ کسی بھی جوابی اقدام کے بعد انسانی نقصان کو بیانیاتی ہتھیار بنایا جا سکے۔

February 22, 2026

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اس کے کسی اہلکار یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

February 22, 2026

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو سال کے دوران یہ تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا تھا، جب کہ دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئر شو میں زمین بوس ہو گیا تھا۔

February 22, 2026

انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں نقد انعام کا اعلان کیا۔ سی ٹی ڈی حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بغیر کسی تفریق کے جاری رہیں گی اور ریاستی اداروں کے خلاف عناصر کے لیے صفر برداشت کی پالیسی برقرار رہے گی۔

February 22, 2026

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاجی ہنگاموں کی منصوبہ بندی میں عوام کی سہولیات کو نظر انداز کیا گیا اور احتجاج کی شدت نے صوبائی نظام کو معطل کر دیا، جس سے سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی مشکلات کو استعمال کیا گیا۔

February 22, 2026

افغانستان میں کارروائیاں: الزامات، حقائق اور ریاستی مؤقف

شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں، نہ کہ شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کے خلاف۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کالعدم نیٹ ورکس شہری آبادی میں گھل مل کر کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ کسی بھی جوابی اقدام کے بعد انسانی نقصان کو بیانیاتی ہتھیار بنایا جا سکے۔
افغانستان میں کارروائیاں: الزامات، حقائق اور ریاستی مؤقف

مجموعی طور پر پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ وہ کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے، تاہم جب براہِ راست خطرات اور حملوں کے شواہد سامنے آئیں تو ریاستی ردعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔

February 22, 2026

پاکستان کی حالیہ سرحد پار کارروائیوں کے بعد ایک منظم بیانیاتی مہم سامنے آئی جس میں شہری ہلاکتوں، مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے اور خودمختاری کی خلاف ورزی جیسے الزامات کو نمایاں کیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدامات کسی جارحانہ حکمتِ عملی کا حصہ نہیں تھے بلکہ مسلسل سرحد پار دہشت گرد حملوں کے بعد ایک محدود اور ہدفی جوابی کارروائی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل متعدد سفارتی اور سیکیورٹی چینلز کے ذریعے خدشات سے آگاہ کیا گیا، تاہم جب زمینی سطح پر کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہوئی تو خطرات کے تدارک کے لیے عملی قدم ناگزیر ہوگیا۔

شہری ہلاکتوں کا الزام: حقائق اور ذمہ داری کا سوال

شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں، نہ کہ شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کے خلاف۔ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کالعدم نیٹ ورکس شہری آبادی میں گھل مل کر کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ کسی بھی جوابی اقدام کے بعد انسانی نقصان کو بیانیاتی ہتھیار بنایا جا سکے۔

سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مبینہ مقامات پر شہری موجود تھے تو وہاں مسلح نیٹ ورکس کو کام کرنے کی اجازت کیسے ملی؟ حکام کے مطابق ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو مسلسل سرحد پار حملوں سے بچانا ہے۔

مسجد یا مدرسہ نشانہ بنانے کا دعویٰ: مذہبی جذبات کا استعمال؟

یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ کسی مسجد یا مدرسے کو نشانہ بنایا گیا اور مقدس کتب کی بے حرمتی ہوئی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مذہبی مقامات کے احترام کو یقینی بنایا ہے، حتیٰ کہ کشیدگی کے ادوار میں بھی۔ تاہم سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات دہشت گرد عناصر اپنے مراکز کو مذہبی شناخت دے کر انہیں نگرانی اور احتساب سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا استدلال ہے کہ اگر کسی عبادت گاہ کو اسلحہ ذخیرہ کرنے، تربیت دینے یا حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جائے تو اس عمل سے خود اس مقام کی حرمت متاثر ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق دہشت گردی اور مذہبی تقدس کو یکجا کرنا دراصل جذباتی استحصال کی حکمتِ عملی ہے۔

خودمختاری کی خلاف ورزی یا حقِ دفاع؟

کابل کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات پر پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی ریاست کے خلاف نہیں بلکہ ان مسلح گروہوں کے خلاف تھا جو سرحد پار سے حملوں میں ملوث تھے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے متعدد بار افغان حکام کے ساتھ شواہد اور خدشات شیئر کیے اور عملی اقدامات کی درخواست کی۔

حکام کے مطابق خودمختاری کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے کہ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ جب یہ ذمہ داری پوری نہ ہو اور حملے جاری رہیں تو متاثرہ ملک کے لیے محدود دفاعی اقدام ایک قانونی اور عملی ضرورت بن جاتا ہے۔

داخلی کارروائیاں اور “اسکیپ گوٹنگ” کا الزام

یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈال رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے اور سیکیورٹی اہلکاروں نے قربانیاں دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ داخلی سطح پر وسیع آپریشنز جاری ہیں اور سرحد پار پہلو اس مسئلے کا اضافی عنصر ہے، متبادل نہیں۔ ان کے مطابق بیانیے کی سطح پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اصل مسئلہ یعنی سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے پر توجہ دینا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ وہ کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے، تاہم جب براہِ راست خطرات اور حملوں کے شواہد سامنے آئیں تو ریاستی ردعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اس کے کسی اہلکار یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

February 22, 2026

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو سال کے دوران یہ تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا تھا، جب کہ دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئر شو میں زمین بوس ہو گیا تھا۔

February 22, 2026

انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں نقد انعام کا اعلان کیا۔ سی ٹی ڈی حکام نے واضح کیا کہ صوبے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں بغیر کسی تفریق کے جاری رہیں گی اور ریاستی اداروں کے خلاف عناصر کے لیے صفر برداشت کی پالیسی برقرار رہے گی۔

February 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *