تین روز سے جاری ریکارڈ برفباری کے بعد وادیٔ کالام کی تمام اہم شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث ہزاروں سیاح اپنی گاڑیوں سمیت مختلف مقامات پر مسائل کا شکار ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق کالام سے مٹلتان تک کی مرکزی شاہراہ پر برف کی تہہ جمع ہو گئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر برفانی تودے گرنے سے سڑکیں مسدود ہیں۔ محکمہ مواصلات کے عملے نے کلیدی اہم شاہراہوں کو کھولنے کے لیے برف ہٹانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم تیز برفباری اور برفانی طوفان جاری رہنے سے کام متاثر ہو رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر سوات سے کالام جانے والی تمام گاڑیوں کی آمدورفت روک دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے متاثرہ سیاحوں کی بحالی کے لیے ہنگامی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں خوراک، پانی، ادویات اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کالام میں مزید دو روز تک برفباری جاری رہنے کے امکانات ہیں۔ علاقے کا درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے، جس سے حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ سیاحوں اور مقامی لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوج کی انجینئرنگ ونگ کو ہنگامی بنیادوں پر تعینات کیا جائے تاکہ سڑکیں جلد از جلد کھولی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق کالام، مٹلتان اور اطراف کے گاؤں میں تقریباً 3,000 سے زائد سیاح اور 500 سے زیادہ گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ مقامی ہوٹلوں میں جگہ ختم ہونے کے بعد بہت سے سیاح اپنی گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور اہم رابطہ سڑکیں 48 گھنٹوں کے اندر بحال کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک