فرانس نے بحیرۂ روم میں روسی تیل پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی پر تیل بردار جہاز گرنچ ضبط کر کے اس کے بھارتی کپتان کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا

January 26, 2026

چین نے سینئر فوجی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا بھی شامل ہیں

January 26, 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 91 ہزار کی بلند ترین سطح عبور کر گیا، کاروباری ہفتے کے آغاز میں 1865 پوائنٹس کا اضافہ

January 26, 2026

عروسہ خان شوہر اقرار الحسن کی جانب سے ملنے والے قیمتی تحائف کی نمائش پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی

January 26, 2026

پاکستان آمد پر میانمار کے وزیرِ خارجہ تھان سوی کا اسلام آباد میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پرتپاک استقبال کیا

January 26, 2026

اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔

January 26, 2026

بھارت میں مسلم جائیدادوں پر ریاستی قبضہ: حقائق، تاریخ اور موجودہ صورتحال

انیس سو انچاس سے 2025 تک پھیلا یہ پورا منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت میں زمین کی ملکیت کا ڈھانچہ مذہبی لحاظ سے انتہائی غیرمتوازن ہے۔
بھارت میں مسلم جائیدادوں پر ریاستی قبضہ: حقائق، تاریخ اور موجودہ صورتحال

یہ تمام عوامل نہ صرف معاشی بدحالی کا سبب ہیں بلکہ مذہبی، تہذیبی اور سماجی خودمختاری کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش ناک ہے۔

November 22, 2025

بھارت میں زمین کی ملکیت اور اس کی تقسیم ہمیشہ سے سماجی، معاشی اور مذہبی عدم مساوات کی آئینہ دار رہی ہے، مگر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ریاستی سطح پر زمینوں کی ضبطی اور جائیداد سے محرومی ایک منظم عمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ 1949 سے 1970 کے درمیان سب سے سنگین مثال اتر پردیش میں دیکھی گئی، جہاں سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقریباً 53 لاکھ 77 ہزار 800 ایکڑ (21,763 مربع کلومیٹر) مسلمان زمینداروں کی نجی ملکیت چھین کر ہندو آبادی میں تقسیم کر دی گئی۔

یہ زمین کی ضبطی نہ کسی عسکری مہم کا حصہ تھی، نہ کسی عدالتی فیصلے کا؛ بلکہ ریاستی فیصلوں، قانونی موشگافیوں اور انتظامی اقدامات کی ایک طویل سلسلہ وار کارروائی تھی، جس نے لاکھوں مسلم خاندانوں کو یک لخت زمین سے محروم کر دیا۔ مختلف رپورٹس اور تحقیق بتاتی ہیں کہ اسی نوعیت کی زمین ضبطیوں اور آبادیاتی تبدیلیوں کا عمل بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی نظر آتا ہے، اگرچہ وہاں کے اعداد و شمار مکمل طور پر دستیاب نہیں۔

وقف املاک: تاریخی ناانصافیوں کا تسلسل

وقت کے ساتھ یہ عمل رکا نہیں بلکہ دوسری شکلوں میں جاری رہا۔ آج بھارت میں وقف کی املاک جو مسلمانوں کی اجتماعی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہوتی ہیں شدید دباؤ اور تنازعات کا شکار ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 39 لاکھ ایکڑ (15,780 مربع کلومیٹر) وقف زمین موجود ہے، جو بھارت کے کل رقبے کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہے۔ وقف بورڈ کے مطابق ملک بھر میں 8.72 لاکھ وقف جائیدادیں رجسٹرڈ ہیں جن میں صرف اتر پردیش میں 2.17 لاکھ شامل ہیں۔

ان میں سے تقریباً 13 ہزار 200 املاک اس وقت مختلف عدالتوں میں مقدمات کی زد میں ہیں، جن میں سرکاری قبضے، سیاسی اثرورسوخ اور طاقتور طبقوں کی مداخلت جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ قانونی تنازعات اور قبضہ گیری کے باعث مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

زمین کی ملکیت میں سنگین تفاوت

بھارت میں زمین کی ملکیت کا فرق مسلمانوں کے معاشی کمزور ہونے کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ تازہ سروے بتاتے ہیں کہ تقریباً 48 فیصد مسلمان ایک ایکڑ سے بھی کم زمین کے مالک ہیں، جبکہ ہندو آبادی میں یہ شرح 26 فیصد سے بھی کم ہے۔ زمین کی اس عدم مساوات نے غربت، بے روزگاری، کمزور تعلیمی مواقع اور معاشرتی پس ماندگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری ادارے، ہندو نجی ٹرسٹ اور بڑے سرمایہ دار وسیع رقبوں کے مالک ہیں۔

خود حکومتِ ہند کے پاس 1.55 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد زمین ہے، جبکہ ہندو مذہبی اداروں کے پاس ملک کے بڑے اور قیمتی ترین قطعات موجود ہیں۔

عیسائی اداروں کی زمینیں اور تنازعات

مسیحی ادارے، خصوصاً کیتھولک چرچ، بھی وسیع زمین کے دعویدار ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق ان کے پاس 7 کروڑ ہیکٹر (تقریباً 17 کروڑ ایکڑ) تک زمین موجود ہے، جس کی مالیت 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے، اگرچہ ان اعداد و شمار پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

کئی چرچ پراپرٹیز بھی اس وقت قانونی تنازعات کا حصہ ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتوں کی زمینیں بھی مختلف دباؤ اور ریاستی پیچیدگیوں کی زد میں رہتی ہیں۔

معاشی محرومی اور مذہبی شناخت کا کمزور ہونا

انیس سو انچاس سے 2025 تک پھیلا یہ پورا منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت میں زمین کی ملکیت کا ڈھانچہ مذہبی لحاظ سے انتہائی غیرمتوازن ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ریاستی عدم مساوات، وقف املاک پر قبضے، عدالتی پیچیدگیاں اور آبادیاتی تبدیلیوں نے انہیں معاشی خودمختاری سے دور کر دیا ہے۔ عیسائی اداروں کی زمینوں کا تنازع بھی دکھاتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی جائیدادیں کتنی غیر محفوظ ہیں۔

یہ تمام عوامل نہ صرف معاشی بدحالی کا سبب ہیں بلکہ مذہبی، تہذیبی اور سماجی خودمختاری کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش ناک ہے۔

دیکھیں: امریکہ، مغرب اور اسرائیل کے واقعات سے تقابل؛ عالمی توجہ سمیٹنے کیلئے بھارت نے بھی ”کاپی کیٹ” فارمولا اپنالیا

متعلقہ مضامین

فرانس نے بحیرۂ روم میں روسی تیل پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی پر تیل بردار جہاز گرنچ ضبط کر کے اس کے بھارتی کپتان کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا

January 26, 2026

چین نے سینئر فوجی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا بھی شامل ہیں

January 26, 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 91 ہزار کی بلند ترین سطح عبور کر گیا، کاروباری ہفتے کے آغاز میں 1865 پوائنٹس کا اضافہ

January 26, 2026

عروسہ خان شوہر اقرار الحسن کی جانب سے ملنے والے قیمتی تحائف کی نمائش پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی

January 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *