پاک افغان استنبول مذاکرات تین روز بعد بغیر کسی نتیجے کے روک دیے گئے

استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے امن و امان سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے لیکن طالبان وفد کی جانب سے مثبت پیش رفت اور سنجیدگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے روک دیے گئے
کابل میں یومِ سیاہ کی تقریب؛ پاکستانی سفیر کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان

پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یوم سیاہ کی تقریب میں پاکستانی سفیر عبدالرحمان نظامی کی شرکت اور خطاب
استنبول مذاکرات میں غیر سنجیدگی کے پاک افغان تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان

یہ اقدام عین ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی کارروائی کا مطالبہ بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا تھا
استنبول مذاکرات کا تیسرا دور جاری، فریقین حتمی معاہدے کے قریب

ایچ ٹی این کے باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ معاہدہ دس نکاتی فریم ورک پر مشتمل ہے جس کا اعلان آج شام تک متوقع ہے
پاک افغان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی؛ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاک افغان مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی کی دراندازری کی کوشش ناکام، 25 خوارج ہلاک؛ صدر، وزیراعظم کا خراج تحسین

سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے دراندازی کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، 3 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو

افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔
افغانستان دہشت گردی کا گڑھ، سینکڑوں تربیتی مراکز موجود ہیں؛ گرفتار افغان دہشت گرد کا اعتراف

ماہرین کے مطابق یہ انکشاف اس حقیقت کو مزید تقویت دیتا ہے کہ افغانستان نہ صرف دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے بلکہ وہاں سے پاکستان کے خلاف منظم کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کے بغیر افغانستان کی بقا ممکن نہیں

پاکستان نے بارہا کابل حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے مگر اشرف غنی کی حکومت نے ہمیشہ بھارت کے اشاروں پر عمل کیا۔2014 کے بعد جب امریکا نے اپنی فوجی موجودگی کم کی تو افغانستان میں طالبان نے دوبارہ طاقت حاصل کرنا شروع کی۔
افغانستان آزادی صحافت اور صحافیوں کا قبرستان بننے لگا

دنیا ایک بار افغانستان کو چھوڑ چکی ہے۔ مگر اگر اس بار بھی خاموش رہی، تو یہ خاموشی صرف صحافت نہیں، انصاف کی قبر بن جائے گی۔