کابل: طالبان انٹیلی جنس کا چھاپہ، جرمنی جانے والے افغان شہریوں سے تفتیش

افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرے میں لے کر رہائشیوں کی سخت تفتیش کی

افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرے میں لے کر رہائشیوں کی سخت تفتیش کی

کابل دھماکے کے بعد چین کا سخت ردعمل: طالبان سے شہریوں کی حفاظت اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ

کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے

کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے

پاکستان میں افغان مہاجرین کا قیام دہشت گردی کی بنیادی وجہ اور سنگین غلطی تھی، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ’فاش غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ بنا۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ’فاش غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ بنا۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا

کابل دھماکہ: داعش خراسان نے ذمہ داری قبول کرلی، افغان سرزمین اب چین کے خلاف بھی مسلسل استعمال ہونے لگی

گزشتہ کل کابل کے محفوظ ترین علاقے شہرِنو میں ایک چینی ریسٹورنٹ میں خودکش دھماکے میں سات افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کے خلاف انتقامی کاروائی قرار دیا

پیر کے روز کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں خودکش دھماکے میں سات افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کے خلاف انتقامی کاروائی قرار دیا